سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 447 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 447

سبیل الرشاد جلد دوم 447 تیسرے ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ امت محمدیہ میں امتی نبی صرف ایک ہوگا۔جو آنا تھا وہ آ گیا۔اس کی ایک عقلی دلیل ہے، ایک اس کی دلیل ہے۔ابھی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حوالہ پڑھوں گا۔عقلی دلیل یہ ہے کہ اگر کسی کے سپرد یہ کام کیا جائے کہ وہ ساری دُنیا میں اسلام کو غالب کرے تو اس کی کوشش میں ایک تسلسل کا پایا جانا ضروری ہے مثلاً سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک خطہ میں کام کیا۔اُن کی اولا داب بھی درود پڑھتی ہے اور ذکر بھی کرتی ہے لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کا۔مگر کوئی کوشش ساری دنیا کو اسلام میں داخل کرنے کی نہیں گئی۔تسلسل کے بغیر یہ ہو نہیں سکتا۔کیونکہ ایک زندگی کی یہ ذمہ واری نہیں۔کوئی ایک نسل اپنی زندگی میں ساری دُنیا میں اسلام کو غالب نہیں کر سکتی۔بشارت دی گئی ہے کہ تین سوسال کے اندراندر۔اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بھی منصوبہ اپنے عروج کو پہنچ جائے گا۔دوسری صدی میں یعنی جو نو سال کے بعد شروع ہونے والی ہے۔اس میں دس بارہ ، خدا جانے کتنی نسلوں نے پیدا ہونا اور اپنی ذمہ داریوں کو سنبھالنا ہے۔ایک سوسال تو گزر گیا نا۔پہلے بزرگوں کو دیکھو۔امت مسلمہ میں جو مجدد پیدا ہوئے تھے ان پر بھی جب سو سال گزرگیا اُن کا زمانہ ختم ہو گیا۔پھر نئے آنے والے نے نئے سرے سے شروع کر دیا کام۔تسلسل ختم ہو گیا۔اُن کا کام بھی ختم ہو گیا۔اُن کی افادیت بھی ختم ہو گئی۔اُن کے اثرات بھی ختم ہو گئے۔وہ ایک خاص زمانے کے لئے ایک خاص خطہ ارض کے لئے تھے۔جس کے سپر د خدا یہ کام کرے کہ ساری دُنیا میں اسلام کو غالب کر ولیکن اُسے یہ کہے کہ تیری جماعت کو زندگی صرف سو سال کی دوں گا۔کام تیرے سپر د تین سو سال کا ہے اور زندگی ایک سو سال کی ، خدا تعالیٰ تو یہ نہیں کہہ سکتا۔کیونکہ کوئی نقص اس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔اس لئے حقیقت یہ ہے کہ یہ امتی نبی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں کچھ اس طرح تڑپا کہ خدا نے ایک ہزار سال کے لئے اُسے اُمتی نبی اور مجدد آخر بنا دیا۔(نعرے) بہت سے حوالے ہیں لیکن میں ان میں سے چند ایک کو ہی لے سکتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں : غرض بروزی رنگ کی نبوت سے ختم نبوت میں فرق نہیں آتا اور نہ مُہر ٹوٹتی ہے۔لیکن کسی دوسرے نبی کے آنے سے اسلام کی بیخ کنی ہو جاتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس میں سخت اہانت ہے کہ عظیم الشان کام دجال کشی کا عیسی سے ہوا نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آیت کریمہ وَلكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبيِّنَ نعوذ باللہ اس سے جھوٹی ٹھہرتی ہے اور اس آیت میں ایک پیشگوئی مخفی ہے اور وہ یہ کہ اب نبوت پر قیامت تک مُہر لگ گئی ہے اور بجز بروزی وجود کے جوخود