سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 433
سبیل الرشاد جلد دوم 433 تیرے دماغ میں پیدا کر دی اور اُس طرف ہمارے ملکوں کے لوگوں کا دماغ ہی نہیں جاتا یعنی عجیب عجیب چیزیں سوچتے رہتے ہیں مثلاً بالی بہت مشہور ہے بُوٹ بنانے کی کمپنی۔اور وہ ہر قسم کے بُوٹ بناتے ہیں۔اُن کی دکان پہ میں گیا تو انہوں نے کہا یہ گر گابی ہے۔اس کے اندر خاص نئی چیز ہم نے یہ ایجاد کی ہے کہ نم جگہ میں آپ پھرتے رہیں اس کے اندر نمی نہیں جائے گی۔لیکن ہوا کی سرکولیشن Circulation اس کے اندر رہے گی جو پسینہ آ جائے گا پاؤں کا وہ خشک ہو جائے گا۔بظاہر دو متضاد با تیں ہیں کہ ہوا جو ہے اس کے لئے تو سانس لینے کا ایسا انتظام ہو اور ساتھ ہی وہ پانی کو بھی روک رہا ہو۔اُس کے لئے کوئی نہ کوئی سوراخ انہوں نے کئے ہوئے ہیں، پھرتے رہو اندر بالکل نمی جائے گی ہی نہیں۔بوٹ اندر سے خشک رہے گا۔یہاں تو برساتی نالے کی طرح بوٹ کے اندر پانی چلا جائے گا۔خوبانی اور بادام پر گلاب کا پھول یہ جو عزم ہے کہ ہم نے زیادہ سے زیادہ خدمت لیتے چلے جانا ہے، ترقی کرنی ہے ، یہ تو مسلمان کے لئے تھا۔یہاں بھی ہے۔جا کے پتہ لگتا ہے۔ابھی سپین میں کچھ آثار ہیں۔غرناطہ کا جو حمل ہے۔پہلے بھی میں نے بتایا تھا پانی ایسی جگہ سے لے آئے کہ ابھی تک ان کو پتہ ہی نہیں کہ مسلمان انجینئر نے کیا طریقہ اختیار کیا۔پھر وہاں بڑی کثرت سے بادام اور خوبانی کے درخت پر گلاب کے پھول کا پیوند کر دیا۔تو بڑے بڑے درخت خوبانی کے اور بادام کا درخت تو بہت بڑا نہیں ہوتا۔دس بارہ فٹ تک جاتا ہے۔اُن کے اوپر نہایت خوبصورت گلاب کا پھول لگا ہوا۔تو اب وہ فن وہاں کا انسان بھول ہی گیا۔جب مسلمانوں کو عیسائیوں نے مارا۔گردنیں اڑائیں تو ساتھ بہت سارے جو فن تھے اُن کی گردنیں بھی اُڑا دیں۔الحمرا کے محل کی حیران کن باتیں پہلے شاید میں نے یہاں بتایا تھا کہ ایک سوچو میں ستونوں کا ایک حصہ ہے الحمرا میں۔جس وقت وہ بنایا گیا تو انجینئر کو حکم ہوا کہ یہاں زلزلے آتے ہیں تو ستون اس طرح بناؤ کہ زلزلے آنے کے نتیجہ میں چھت نہ گرے۔تو انہوں نے بالکل سیدھے ستون نہیں رکھے۔ویسے نظر نہیں پہچانتی۔ہمارا گائیڈ کہنے لگا۔ایک طرف کھڑے ہو کے دیکھیں تو سہی۔یہ ۴۰ ستون جو لمبی سائڈ کے اوپر نظر آ رہے ہیں۔وہ سیدھے ہیں ہی نہیں۔کوئی پانچ سات انچ ادھر ہلا ہوا ہے اپنی جگہ سے یعنی اپنی سدھائی سے اور کوئی اُدھر ہلا ہوا ہے۔یعنی گروپ اس طرح اکٹھے کر دیئے ہیں۔وہ کہنے لگا کہ یہ اس لئے ہے کہ مسلمان انجینئر نے زلزلے کی لہروں کے جو رخ تھے۔لہر پیدا ہوتی ہے نا زمین کے اندر۔اُن کو سٹڈی (Study) کیا اور اُن کو