سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 431 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 431

سبیل الرشاد جلد دوم 431 خُلُقُهُ الْقُرْآنَ یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے۔جو قرآن نے کہا آپ نے کر دکھایا۔اب اگر یہ جو باتیں میں نے کی ہیں۔دماغ میں آجائیں تو خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے آپ میں سے ہر ایک شخص کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا پڑے گا۔اور اس کے بغیر اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔اور کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔ہر چیز ہمارے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے اب یہ بات چھوڑ کے ایک نئی بات کرتا ہوں۔ہر چیز ہمارے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی۔وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ 0 خدا تعالیٰ نے اس عالمین میں، اس یونیورس میں جو کچھ بھی پیدا کیا انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے اس لئے انسان کو اُس میں دلچسپی لینی چاہئے۔(اس موقع پر کچھ جانور اڑتے دکھائی دیئے تو حضور نے احباب سے دریافت کرنے کے بعد فرمایا یہ تیر دو قسم کے ہیں۔ایک وہ ہے جن کے اوپر سفید سفید داغ ہوتے ہیں کا لا تلیر۔دراصل تلیر اسی کو کہتے ہیں۔اس کو غلطی سے ہماری زبان میں تلیر ہی کہا جاتا ہے۔یہ آپ نے ٹھیک ہی کہا لیکن یRed Breasted ہیں ان کے پورا سرخ نہیں گلابی آتا ہے اور یہ دو دو ہزار کی ڈار میں بھی ملتا ہے۔ویسے اسے مارنا نہیں چاہئے کیونکہ ہمیں فائدہ پہنچا رہا ہے۔یہ ٹڈی کو کا تا ہے۔جس وقت ٹڈی دل آتا ہے تو ہزار ہا اڑ رہے ہوتے ہیں اور یہ ۵۔۱۰ منٹ میں ۱۰۰۔۲۰۰ کو کاٹ کاٹ کر نیچے پھینکتا چلا جاتا ہے۔یہ بھی خدا تعالیٰ کی شان ہے اُس نے تمہارے فائدہ کے لئے بنایا ہے۔آپ نے کس کالج میں تلیر کو پڑھایا تھا کہ ہمارے فائدہ کے لئے آسمانوں میں جا کر ٹڈیوں کو کا ٹا کرو۔تو یہ میں نے اس واسطے بات کی کہ اکثر لوگوں کو اپنے خادموں میں کوئی دلچسپی نہیں۔ہر چیز میں دلچسپی لیں فائدہ کے لئے نہیں دلچسپی لیں گے تو پھر خرابی ہوتی ہے ، ہلاکت پیدا ہو جاتی ہے اس کے نتیجہ میں یعنی ہوائے نفس آ جاتی ہیں۔جب یہ واضح ہے کہ تمہارے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے تو سوچنا پڑے گا کہ ہمارا حقیقی فائدہ کس چیز میں ہے۔کس استعمال میں ہے۔مثلاً پھر یہ نہیں ہوگا کہ بس شراب پی لی اُٹھ کے باسور کھالیا۔بلکہ یہ سوچنا پڑے گا کہ کہیں شراب اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الْشَيْطَنِ (المائده :91) تو نہیں۔شراب کی جہاں ممانعت ہے وہاں یہ کہا گیا ہے۔رجس ایک گندی چیز ہے اور اس کا پینا عملِ شیطن ہے۔تو میں اس واسطے کہہ رہا ہوں آپ کو بتا رہا ہوں کہ دُنیا میں ایسے لوگ بھی پیدا ہو گئے جنہوں نے یہ فتویٰ دے دیا کہ چونکہ عرب بڑا گرم ملک ہے۔اس لئے وہاں شراب حرام ہو گئی ورنہ حرام نہیں ہے۔تو خدا تعالیٰ نے غیر مشروط طور پر اعلان کیا۔رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَنِ شیطانی کام ہے۔جو یہ سورۃ الجاثیہ آیت ۱۴۔