سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 409 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 409

409 سبیل الرشاد جلد دوم مجھے فرسٹ ڈویژن کے چاہئیں۔مولوی احمد خاں صاحب مرحوم کا بڑا پیارا بچہ ہے نسیم مہدی۔اس نے فرسٹ ڈویژن بھی بڑی اونچی پاس کر لی۔اس نے کہیں اپنے باپ کو کہا کہ میں کالج میں چلا جا تا ہوں اور بی۔اے کرنے کے بعد آ جاؤں گا۔اس نے زندگی وقف کی ہوئی تھی دل سے۔وہ اس کو لے کے میرے پاس آگئے۔مجھے کہنے لگے کہ کیا خیال ہے آپ کا۔وہ بڑا سخت مخلص انسان تھا اور بڑی اطاعت کرنے والا وہ کہنے لگے میں اس کو پہلے بی اے کروا کے نہ لے آؤں جامعہ کی طرف۔میں نے کہا نہیں ابھی جاؤ اور جامعہ میں داخل کراؤ۔انہوں نے جا کے جامعہ میں داخل کروا دیا۔جامعہ میں پڑھ کے اب وہ زیورک میں ہیں۔خدا کے فضل سے ( آپ دعا بھی کریں اس نوجوان کے لئے ) اتنا اچھا کام کر رہا ہے کہ بہتوں کے لئے قابل رشک ہے اور جذبہ ہے تبلیغ کا۔ابھی ایک سکیم پر عمل کرنے کو کہا گیا تھا ( کثرت سے فولڈ رز Folders شائع کرنے کی) سب سے آگے وہ نکل گیا یعنی جو نیکی کی بات ، جو مفید بات، جو تبلیغ کی بات میں بتا تا ہوں کوئی آہستہ سے اس کو لیتے ہیں اور آگے چلتے ہیں، کوئی جلدی سے لیتا ہے۔وہ تو چھلانگ مار کے لیتا اور کہیں کا کہیں نکل گیا۔اس ٹائپ کا ہے۔ویسے ہی چاہئیں۔دنیا میں ایک انقلاب بپا ہو رہا ہے۔یہ انقلاب جو دنیا میں بپا ہو رہا ہے وہ اسلام کے حق میں ہو رہا ہے۔یہ انقلاب آپ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ صحیح اسلام اس کے سامنے پیش کیا جائے۔اسلام جس کے معنی سلامتی ہیں جس کے معنی حقوق انسانی کی ادائیگی کے ہیں خواہ وہ انسان دہریہ اور خدا کو گالیاں دینے والا ہی کیوں نہ ہو۔قرآن کریم نے ہر چیز کو کھول کے بیان کر دیا۔اسلامی تعلیم کا مطالبہ کرتا ہے یہ انقلاب۔میں جب پیش کرتا ہوں بعض دفعہ کہہ دیتا ہوں۔جو تعلیم پیش کر رہا ہوں تم میں جرات نہیں ہوگی کہ کہو کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں یا ہم یہ تسلیم نہیں کرتے۔کسی کو آج تک جرات نہیں ہوئی کہنے کی کہ نہیں یہ خراب ہے ہم نہیں مانتے۔اور قسم کے اعتراض کر جاتے ہیں۔یہ کہہ دیتے ہیں کہ کہاں کون سے مسلمان ان پر عمل کر رہے ہیں۔میں کہتا ہوں میں تمہارے پاس قرآن پیش کر رہا ہوں۔میں تمہارے سامنے نمونہ سوائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کو پیش نہیں کرتا۔یہ قرآن ہے اس کی تعلیم دیکھو۔وہ نمونہ ہے کامل نمونہ اس کے نقوش پر چلو۔جو اس کے نقشِ قدم پر ٹھیک طرح چلا وہ ایک حد تک تمہارے لئے اسوہ بن گیا۔جو نہیں چلا وہ تمہارے لئے اسوہ نہیں ہے۔اس کی طرف کیوں دیکھتے ہو۔پس منظر کی ایک آدھ بات دوسری بھی میں نے تھوڑی سی بتا دی ہے۔لیکن میں نے بتایا ہے کہ یہ تو لمبا سلسلہ ہے۔میں نے ایک بار آپ سے پھر باتیں کرنی ہیں۔اس موقع پر میں اس کا کافی حصہ انصار اللہ کو اُس موقع پر کچھ بتاؤں گا۔پھر خدام الاحمدیہ میں دو یا تین تقاریر ہیں۔یہ ابھی نہیں میں کہہ سکتا۔اس میں میں