سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 405
405 سبیل الرشاد جلد دوم زندہ تھے بڑے اچھے انسان۔انہوں نے کہا ان کے وزراء نے کہا، پوری کیبنٹ (Cabinet) نے کہا کہ ہم اجازت دے دیں گے نماز پڑھنے کی یہاں لیکن دفتری کارروائی کرنی ہوتی ہے۔چند ہفتوں تک آپ کو اجازت مل جائے گی۔میں نے بات کو اور پکا کرنے کے لئے مکرم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو سپین بھیجا اور کہا آپ لاء منسٹر سے ملیں اور ان سے بات کریں۔اس نے کہا آپ خواہ مخواہ گھبراتے ہیں۔ہو جائے گا سارا کام۔بالکل فکر نہ کریں۔لیکن جب شروع میں مسلمانوں کو مغلوب کرنے کے بعد وہاں عیسائیوں کی حکومت بنی تو اس دستور میں یہ تھا کہ مسلمانوں کی جو جائیداد ہے اس کے متعلق کوئی فیصلہ بھی لاٹ پادری کارڈینل (Cardinal) کے منشاء کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ساری حکومت تیار دینے کو اور پادری صاحب نے کہا نہیں دینی۔وقت نہیں آیا تھا نا ابھی۔تو نہیں ملی ہمیں۔خیر ہم نے کہا ٹھیک ہے۔اور دس سال نہیں گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی قرب قرطبہ میں مسجد بنانے کی۔ہاں ایک اور چیز بتا دوں۔اُس وقت میری نگاہ نے دو جگہ کا انتخاب کیا۔جہاں ہماری مسجد بن سکتی ہے عوام کی طبیعت کے لحاظ سے، ایک طلیطلہ، وہاں تھوڑی دیر کے لئے گئے اور طلیطلہ کے عوام نے ہم سے بڑے پیار کا اظہار کیا اور ایک قرطبہ جس کے مکین ہنس مکھ ، کوئی غصہ نہیں ، کوئی پرانی عداوت نہیں ، کوئی تعصب نہیں ، بڑے پیار سے ملتے تھے ایسا پیار کہ قرطبہ کی مسجد دیکھ کر نکلے تو سڑک پار کتابوں کی دکان تھی ہم وہاں چلے گئے۔میرا خیال تھا کوئی انگریزی کتاب ملے تو تازہ کریں اپنا علم ، کوئی ہیں پچیس منٹ کے بعد جب باہر نکلے تو جس دروازے سے مسجد کے ہم نکلے تھے وہاں دومیاں بیوی اور دواڑھائی سال کا بچہ جو انہوں نے اٹھایا ہوا تھا کھڑے ہوئے تھے۔بچے نے ہاتھ ہلانے شروع کر دیئے۔مجھے بڑا پیار آیا۔ہماری موٹر کا منہ دوسری طرف تھا۔میں نے ڈرائیور کو کہا کہ موڑ کے اس طرف لے آؤ۔جہاں وہ بچہ کھڑا ہوا ہے۔جب وہاں گئے تو اس کا باپ کہنے لگا۔آپ اس دوکان کے اندر جب داخل ہوئے ہیں اس وقت اس بچے نے ضد کی کہ جب تک یہ باہر نہیں نکلتے میں یہاں سے نہیں ہلوں گا اور ہمیں چھپیں منٹ اس نے ماں باپ کو ملنے نہیں دیا صرف اس لئے کہ جب ہم باہر نکلیں تو ہمیں دیکھ کر وہ ہاتھ ہلائے۔دواڑھائی سال کا بچہ کچھ اس کو پتہ نہیں لیکن اس کے خدا کو تو پتہ تھا۔پیار کیا اُس کو ، بہت پیارا لگا اور وہ بھی پیار کرتا تھا۔شیشہ چڑھا ہوا تھا تو منصورہ بیگم اس کو دیکھ رہی تھیں تو شیشے کو باہر سے اس بچے نے پیار کیا۔اس قسم کے تھے وہ لوگ۔سارا جائزہ لے کے میں نے کہا مسجد یہاں بنے گی۔انشاء اللہ۔اور اب دس سال گزرے اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی۔قریباً ڈیڑھ۔دو گھماؤں زمین ہم نے وہاں خرید لی اور خریدنے سے پہلے میں نے انہیں کہا کہ لوکل آبادی سے اور مرکز سے یہ تحریر لو کہ ہمیں مسجد بنانے کی اجازت دیں گے۔تو مقامی انتظامیہ نے بھی اور مرکزی حکومت نے بھی تحریری اجازت دی کہ یہاں تم مسجد بنا سکتے ہو۔پھر ہم نے وہ زمین خرید لی۔یہ