سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 388 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 388

388 سبیل الرشاد جلد دوم کے زور سے یا سر پھوڑ کر یا ایٹم بم استعمال کر کے یا اس سے بھی زیادہ مہلک ہتھیار جو آج انسان ایجاد کر رہا ہے اس کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ جو اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اس سے دعائیں کر کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے ہمارے لئے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ کا اُسوہ چھوڑا ہے، اس اُسوہ پر عمل کرتے ہوئے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک زندہ نبی ہیں ، قیامت تک کے لئے۔آپ کی قوت قدسیہ اور روحانی فیضان بنی نوع انسان کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ آپ کے قدموں پر جمع ہوں اور آپ کے فیوض سے حصہ لیں۔پس آپ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر بھی فضل کرے اور رحم کرے اور اپنے پیار سے ہمیں نوازے اور ہماری غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہمیں آئندہ کی غلطیوں سے بچائے اور بنی نوع انسان کی خدمت کا جو فریضہ ہم پر عائد کیا گیا ہے ہمیں اسے مادی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی پوری طرح اور کامل طور پر نباہنے کی توفیق عطا کرے اور ہمیں توفیق دے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھاٹھیں مارنے والے پیار کے سمندر میں سے ہم اپنے برتن بھریں اور اس پیاسی دنیا کے مُنہ کے ساتھ جا کر لگائیں اور اس پیار کے نتیجہ میں ان کے دلوں کو خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنے میں کامیاب ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے۔اب آپ جائیں گے۔خدا تعالیٰ سفر و حضر میں آپ کا ناصر ہوا اور محافظ ہو اور آپ اس کی پناہ میں رہیں اور آپ کو وہ ہر شر سے محفوظ رکھے اور ہر خیر میں آپ کو حصہ دار بنائے۔آپ کو دُنیا پر احسان کرنے والا وجود بنائے ، دنیا کا خادم بنائے ، فسادات کو دور کرنے والا بنائے ،فساد سے بچنے والا بنائے اور آپ دنیا پر یہ ثابت کریں کہ خدا تعالیٰ نے ہم پر جو ذمہ داری ڈالی تھی خدا نے پھر اپنے فضل سے یہ تو فیق بھی دی کہ ہم نے اس کو نباہ لیا۔اور جب ہم اپنے فرائض پورے کر کے مریں تو خدا تعالیٰ ہم سے غصے نہ ہو اور ناراض نہ ہو بلکہ ہم سے پیار کرنے والا ہو اور ہم اس کی رضا کی جنتوں میں جانے والے ہوں۔اللهم آمین۔اس خطاب کے بعد حضور نے انصار اللہ کا عہد دہر وایا۔تمام حاضرین نے کھڑے ہو کر حضور کے ساتھ یہ عہد دُہرایا اور اس کے بعد اجتماعی دعا ہوئی جس کے ساتھ یہ با برکت اجتماع اپنے اختتام کو پہنچا۔( غیر مطبوعہ ) سورة الشعراء آیت ۴