سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 387
387 سبیل الرشاد جلد دوم کا نفرنس میں اس سلسلہ میں ایک ریزولیوشن (resolution) بھی پاس ہوا تھا۔جو کام کرنے والے ہیں وہ بڑے عظیم ہیں اور وہ بڑی محنت چاہتے ہیں ، بڑی قربانی چاہتے ہیں ، آنے والی نسلوں کی بڑی تربیت چاہتے ہیں۔میرے ذہن میں اور بھی باتیں تھیں وہ پھر کسی وقت بیان ہو جائیں گی۔اب اس وقت میں دعا پر اس کو ختم کروں گا۔جو چیز میں آپ کو بتا نا چاہتا تھا جس کے کچھ حصے میں نے بتائے ہیں وہ یہ ہے کہ انگریزی کا محاورہ ہے 'In the thick of it‘ پیشگوئیوں کے مطابق جو جنگ نور کی ظلمات سے آخری جنگ قرار دی گئی تھی وہ گھمسان کی شکل اختیار کر گئی ہے اور اس کے وسط میں اس وقت ہم اپنے آپ کو کھڑا پاتے ہیں۔پس یہ بے فکری کا اور بے پروائی کا زمانہ نہیں نہ میرے لئے نہ آپ کے لئے نہ میرے بچوں کے لئے اور نہ آپ کے بچوں کے لئے۔ہمیں اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا چاہئے جب تک کہ ہم ظلمات کی یلغار کو جیسا کہ پیشگوئی کی گئی ہے اور بشارت دی گئی ہے اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے شکست نہ دے دیں اور اللہ جو نُورُ السَّمَوَاتِ وَالاَ رُضِ ہے اس کا نور ساری دنیا میں پھیل جائے اور انسان کا دل اس سے منور ہو جائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد پورا ہو جائے کہ نوع انسانی کو امت واحدہ بنا دیا جائے اور جو امت واحدہ سے باہر رہنے والے ہوں ان کی دنیا میں کوئی حیثیت باقی نہ رہے اور دنیا کی بڑی بھاری اکثریت سارے انسانوں کا ۹۵ فیصد یا ۹۸ فیصد یا ۹۹ فیصد یا ہزار میں سے ۹۹۹ مسلمان ہو چکے ہوں۔اس قسم کے حالات انشاء اللہ پیدا ہوں گے لیکن یہ حالات جو ہمیں افق غلبہ اسلام پر روحانی آنکھ سے نظر آ رہے ہیں اس کے لئے ہمارے جسموں اور ہماری روحوں نے قربانیاں دینی ہیں لیکن یہ قربانیاں محض مادی قربانیاں نہیں ہیں بلکہ ان میں بنیادی حیثیت رکھنے والی قربانی یہ ہے کہ ہم اپنے وقتوں کو خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ اور متضرعانہ دعاؤں میں خرچ کریں کہ خدا تعالیٰ نوع انسانی پر رحم فرمائے اور انسانیت جو آج گندی زیست کی دلدل میں نیچے ہی نیچے دھنستی چلی جا رہی ہے ، میں کہتا ہوں کہ گردن تک ڈوب گئی ہے ، خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کو منہ سے پکڑیں اور اوپر نکال لیں اور خدا تعالیٰ کے غضب اور قہر سے انسان کو محفوظ کر لیا جائے۔اور وہ خدا تعالیٰ کو پہچاننے لگیں اس کی recognition معرفت اور عرفان انہیں حاصل ہو۔اس قدر پیار کرنے والے رب سے وہ دُور پڑے ہیں۔اتنی محرومی! اور اس محرومی کا انہیں احساس نہیں۔محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ پہچانتے نہیں اور اس کے احسان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اتنا احسان ہے اتنا احسان ہے کہ سمندروں کے پانی تو ایک قطرہ ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان کے سمندر کے مقابلہ میں۔لیکن ان لوگوں کو کوئی احساس ہی نہیں ، کوئی علم ہی نہیں ، کوئی توجہ ہی نہیں ، ساری دنیا کو اس طرف لے کر آنا ہماری ذمہ داری ہے لیکن تلوار