سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 384
384 سبیل الرشاد جلد دوم سمجھا جائے تب بھی سب سے زیادہ طاقت کیتھولسزم کی ہے۔چنانچہ میں نے کہا کہ کیتھولک بشپس کوضرور لکھو اور ساری دنیا میں کیتھولک بشپس کو لکھا گیا لیکن اکثر نے جواب ہی نہیں دیا۔صرف چند ایک نے جواب دیا اور جنہوں نے جواب دیا انہوں نے یہ جواب دیا کہ ہم جماعت احمدیہ سے کوئی گفتگو کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔اس کا نفرنس کے جو نتائج ابھی تک نکلے ہیں وہ بڑے شاندار ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ صد سالہ منصو بہ کو خدا تعالیٰ نے یہ بڑی برکت عطا کی ہے کہ اس کے ذریعہ سے یہ کانفرنس منعقد ہوئی اور غلبہ اسلام میں ہماری حرکت جو آگے ہی آگے بڑھ رہی ہے اس میں اپنے اثرات کے لحاظ سے نمایاں حصہ اس کا نفرنس کا ہے اور ہو گا۔ایک اور بڑا اچھا نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائی محققین نے بھی تحقیق شروع کی تھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں مرے بلکہ زندہ اُترے اور جو دس گم شدہ قبائل تھے Lost tribes of Israel ان میں جا کر انہوں نے تبلیغ کی اور کشمیر گئے اور وہاں وفات پائی اور وہاں ان کی قبر ہے چنانچہ اس کا نفرنس کے نتیجہ میں معلوم ہوا کہ بہت سے لوگوں نے تحقیق کی تھی لیکن ان کی تحقیق کا نتیجہ کتابی شکل میں شائع نہیں ہوا تھا۔مسو دے پڑے ہوئے تھے۔سویڈن کی ایک عورت نے لکھا کہ میرے باپ نے تو ساری عمر تحقیق کر کے وہی نتیجہ نکالا تھا جس پر آپ اس وقت کا نفرنس کر رہے ہیں اس لئے مجھے بہت دلچسپی ہے۔میرا باپ تو فوت ہو گیا ہے۔مسودہ میرے پاس پڑا ہوا ہے اس کی زندگی میں نہیں چھپ سکا اور نہ میں چھاپ سکی ہوں۔آپ مجھے دعوت دیں کہ میں بھی آکر attend کروں۔چنانچہ وہ بھی آگئی اور اسی طرح چھپے ہوئے اور بہت سے لوگوں کی طرف سے اطلاع آگئی کہ ہم نے بھی تحقیق کی ہے اور اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں مرے بلکہ زندہ اترے اور بعد میں لمبا عرصہ زندہ رہے اور انہوں نے بنی اسرائیل کے گمشدہ دس قبائل میں تبلیغ کی۔بارہ میں سے دس قبائل یعنی اتنی فیصد لوگوں میں انہوں نے تبلیغ کی اور ان کو عیسائی بنایا اور ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور اسلام کو قبول کرنے کے لئے تیار کیا اور انہوں نے اسلام کو قبول کر لیا اور جنہوں نے قبول نہیں کیا ان کو میں نے دعوت دی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ چند منٹ کے لئے آپ اسی انگریزی تقریر کا ایک حصہ سن لیں۔(چنانچہ حضور رحمۃ اللہ علیہ نے لندن کا نفرنس میں اپنی تقریر کا ایک حصہ تقریباً ۵ منٹ تک ٹیپ ریکارڈر کے ذریعہ سنایا جس میں آپ نے احسن رنگ میں عیسائیوں کو خدائے واحد و یگانہ کی طرف اور اسلام کی طرف بلایا تھا )