سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 383 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 383

383 سبیل الرشاد جلد دوم دی ہے کہ اس مضمون پر ہمارے ساتھ dialogue کرلو، مذاکرہ کرلو۔اس دعوت نامہ کے اندر ہمیں یہ عجیب بات نظر آئی کہ پہلے ایک خط تھا اور اس کے بعد پریس ریلیز تھی اور خط میں تھا کہ open dialogue یعنی کھلی بات چیت ہوگی چھپی ہوئی نہیں ہوگی۔نیچے جو پریس ریلیز تھی اس میں لکھا ہوا تھا کہ unpublicised ہوگی یعنی اسے شائع نہیں کیا جائے گا بلکہ چھپا کر رکھا جائے گا۔ایک ہی وقت میں وہ open بھی ہوگی اور unpublicised بھی ہو گی۔اس کا مطلب ہمیں سمجھ نہیں آیا بہر حال میں نے کہا کہ ہم اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔کانفرنس کے آخری دن ۴ جون کو میں نے ایڈریس پڑھا اس کے بعد مکرم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے کونسل آف چرچز کا دعوت نامہ پڑھ کر سنایا اور پھر اس کا جواب خود میں نے پڑھکر سنایا۔کچھ پوائنٹس تھے ان کا جواب دیا اور میں نے کہا بڑی اچھی بات ہے ہم تو ہر وقت تیار ہیں اور صرف ” کونسل آف چرچر سے ہی نہیں بلکہ یہ مذاکرہ دنیا کے مختلف حصوں میں ہونا چاہئے۔ایشیا میں بھی ہونا چاہئے ، انگلستان میں بھی ہونا چاہئے اور امریکہ اور دوسری جگہوں میں بھی ہونا چاہئے اور صرف تمہارے مختلف چرچز کی تنظیم سے نہیں بلکہ کیتھولیسزم (Catholicism) سے بھی ہونا چاہئے۔جو کہ سب سے بڑی اور مضبوط جماعت ہے جس کا head روم میں پوپ ہے۔چنانچہ ان کو بھی میں نے دعوت دی کہ آپ بھی مذاکرہ میں تبادلہ خیال میں شریک ہوں خواہ ان کے ساتھ مل کر یا علیحدہ جیسے آپ چاہیں۔ہمیں تو خدا نے پیدا ہی اس کام کے لئے کیا ہے ہم کسی سے گھبراتے تو نہیں۔غرض ایک تو اس دن اعلان ہو گیا اور پھر ان صاحب کو لکھ کر بھیجا گیا جو غالبا سیکرٹری یا صدر ہیں جن کے دستخط سے وہ دعوت نامہ آیا تھا کہ امام جماعت نے اسے منظور کر لیا ہے۔اب آپ شرائط طے کریں لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔غالباً ۳ ۴ ہفتے کے بعد میں نے کہا کہ تم خاموش کیوں بیٹھے ہو ان کو یاد دہانی کراؤ۔پھر ان کو reminder بھیجا گیا یاددہانی کرائی گئی۔اور اس کا جواب ایک اور پادری کی طرف سے آیا جو انہی کے ساتھی تھے۔انہوں نے ان صاحب کا نام لیا جن کے دستخط سے پہلا خط آیا تھا اور لکھا کہ انہوں نے مجھے ہدایت کی ہے کہ میں آپ کو یہ خط لکھوں کہ وہ کہتے ہیں کہ مجھے تو اسلام کے متعلق کچھ پتہ ہی نہیں ہے اس واسطے میں آپ کے قبول دعوت نامہ کا کیا جواب دوں؟ اس لئے وہ عیسائیت کے ماہروں سے مشورہ کر کے جواب دیں گے۔یہ نہیں لکھا کہ اس مشورہ پر وہ ایک مہینہ لگائیں گے یا ایک صدی لگائیں گے۔یہ وہ جانیں واللہ اعلم۔میں نے وہاں سے ساری دنیا میں احمدیوں کو یہ کہا کہ تم اپنے اپنے ملکوں میں ان کا دعوت نامہ اور میرا جواب وہاں کے بشپس (Bishops) کو بھجواؤ اور ان سے کہو کہ اگر تم تیار ہو تو ہم تمہارے ساتھ بھی تبادلہ خیال کرنے کو تیار ہیں۔اس وقت جس فرقے کی طاقت سب سے زیادہ ہے کیتھولیسزم ہے اگر باقی سب فرقوں کو ملا کر ایک فرقہ