سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 361
سبیل الرشاد جلد دوم 361 میں پہلے بھی بتا چکا ہوں یورپ کے سفر میں ، پریس کانفرنسوں میں، اخباری نمائندے مجھ سے پوچھ لیتے ہیں کیا میں یورپ کو بھی مسلمان بنانا چاہتا ہوں ؟ اس پر ایک تو میں اُن کو یہ جواب دیا کرتا ہوں کہ مسلمان بنانا چاہتے ہیں کا اگر تمہارا یہ مطلب ہے کہ میں ڈنڈے کے زور سے تمہیں مسلمان بنانا چاہتا ہوں تو یہ بات غلط ہے۔کیونکہ میرے نزدیک تو مذہب میں ڈنڈا جائز ہی نہیں ہاں یہ صحیح ہے کہ میرے دل میں یہ خواہش اور تڑپ ہے کہ ہم اسلام کے حسن کو تمہارے سامنے کچھ اس طرح پیش کریں کہ تم اسے قبول کرنے پر مجبور ہو جاؤ اور تمہیں یہ احساس ہو جائے گا کہ اسلام سے باہر تمہاری فلاح نہیں ہے۔اگر تم نے خیر و برکت کی زندگی گزارنی ہے تو تمہیں اسلام قبول کرنا پڑے گا اور یہ بھی کہ تم یورپ کا پوچھ رہے ہو میرا تو یہ اندازہ ہے اگلے ۱۱۰ ۱۱۵ سال کے اندر (ابھی ہماری اس صدی کے بھی دس سال رہتے ہیں۔ان کو بھی شامل کر کے اگلے ۱۱۰۔۱۱۵ سال کے اندر ساری دنیا اسلام میں داخل ہو جائے گی۔اور اس کی دلیل میں یہ دیتا رہا ہوں کہ قریباً ۹۰ سال پہلے ایک ایسے شخص نے جو یکا و تنہا تھا اُس نے یہ اعلان کیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس لئے کھڑا کیا ہے کہ میں ساری دنیا میں اسلام کو غالب کروں۔یہ ایک ایسی آواز تھی جسے کوئی سننے والا نہیں تھا خود اس کے گھر والے اُس کی قدر کو نہیں پہچانتے تھے۔لوگ اس کی مخالفت پر کھڑے ہو گئے بلکہ They got united against him ساری دنیا اکٹھی ہو کر اس کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی۔ہر مذہب کے لوگوں نے اس کی مخالفت کی۔لیکن اس مخالفت کے باوجود وہ جو اکیلا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس پر ایسا فضل کیا کہ نوے (۹۰) سال میں وہ ایک سے ایک کروڑ بن گیا۔اب اگر اگلے سو سال میں اس کروڑ میں سے ہر ایک، ایک کروڑ بن جائے تو ضرب لگا کر دیکھ لو کیا شکل بنتی ہے۔چنانچہ فرنکفرٹ میں بھی جب میں نے یہی جواب دیا تو ایک بڑا اچھا شریف اور منجھا ہوا ثقہ صحافی میرے قریب ہی بیٹھا ہوا تھا۔میں نے اس سے کہا ذرا ضرب دے کر دیکھیں کیا شکل بنتی ہے۔پہلے تو اس نے سمجھا کہ ویسے باتیں کرتے ہوئے فقرہ بول گئے ہیں۔تو میں نے اسے کہا میں آپ کو یہ کہہ رہا ہوں کہ مہربانی فرما کرمیری خاطر تکلیف برداشت کریں اور دس ملین کو دس ملین کے ساتھ ضرب دیں۔تو اس شریف آدمی نے جب ضرب دی تو وہ سمجھا کہ غلطی ہوگئی ہے۔پھر اس کو کاٹا میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔پھر اس نے دوبارہ ضرب دی تو پھر بھی وہی شکل سامنے آئی۔تب وہ مسکرایا۔اس نے گردن اٹھائی اور مجھے کہنے لگا اتنی تو دنیا کی آبادی نہیں ہو سکتی۔میں نے اُسے کہا۔میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اتنے ہو جائیں گے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جب پچھلے ۹۰ سال میں ایک سے ایک کروڑ ہو گیا تو یہ بات غیر ممکن نہیں ہے کہ اگلے سو سال میں دنیا کی اکثریت اسلام میں داخل ہو جائے گی۔پس اس طرح میں اُن لوگوں کو سمجھاتا رہا ہوں کہ اگلی