سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 360
سبیل الرشاد جلد دوم 360 مجھے غرض ہے غلبہ اسلام سے۔اس سلسلہ میں جو ذمہ داریاں احباب پر ڈالی گئی ہیں وہ چونکہ بہت اہم ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ احباب کو جسمانی لحاظ سے اس قابل ہونا چاہئے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو اٹھا سکیں اور اُن سے کما حقہ عہدہ برآ ہوسکیں۔پھر تربیت کے لحاظ سے کچھ ذمہ داریاں بہر حال بڑوں پر عائد ہوتی ہیں۔بعض جوان بھی ایسے ہیں جو اپنے گھر کے ذمہ دار ہیں۔مثلاً ایک ۳۰/۲۵ سال کا نوجوان ہے جو آزاد ہو گیا ہے۔وہ علیحدہ گھر کر رہا ہے، اس کی بیوی ہے اور بچے ہیں۔اس کا گھر مستقل حیثیت سے آباد ہے جس کی ساری ذمہ داریاں اس نوجوان پر عائد ہوتی ہیں لیکن دیہات میں بھی اور شہروں میں بھی اور اس نوجوان کے لحاظ سے بھی جس نے علیحدہ گھر آباد کیا ہے۔یہ تو نہیں ہوتا کہ کوئی شخص اپنے دل سے اپنے ماں باپ کی محبت کو نکال کر باہر پھینک دے۔ابھی تک اپنے بڑوں کے ساتھ اور بزرگوں کے ساتھ اس کا تعلق قائم ہے۔لیکن جو بزرگ ہیں۔وہ بزرگ بننے کے لئے تیار نہیں۔یہ عجب تماشا ہے۔پس جو بزرگوں کی ذمہ داری ہے وہ اُن کو اٹھانی چاہئے۔اُن کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کے کانوں میں ہمارے دین کی باتیں ڈالیں۔ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائیں۔اس زمانے کی ضرورت یاد دلائیں۔یہ وہی زمانہ ہے جس میں پیشگوئیوں کے مطابق غلبہ اسلام کی ضرورت مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت کا باعث بنی۔دینی ضرورت کے بغیر تو خدا تعالیٰ کے برگزیدہ لوگ نہیں آتے۔غرض ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کا وہ عظیم الشان کام جس کی تعمیل جماعت احمدیہ کے ذریعہ مقدر ہے۔خدا تعالیٰ نے احباب کو اس جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اب یہ ضروری ہے کہ اس کی ذمہ داریاں اٹھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔یہ ایک نسل کا کام نہیں یہ کام تو نسلاً بعد نسل جاری رہنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔ابھی تین صدیاں پوری نہیں ہوں گی کہ اسلام ساری دنیا پر غالب آ جائے گا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ۲۹۰ سال کے بعد اسلام غالب آئے گا۔آپ نے یہ فرمایا ہے کہ تین صدیوں سے زیادہ وقفہ نہیں گزرے گا کہ اسلام غالب آ جائے گا۔میں نے بہت سی پیشگوئیوں پر غور کیا۔زمانے کے حالات دیکھے۔چنانچہ پرانی اور نئی پیشگوئیوں کو دیکھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جماعت احمدیہ کی زندگی کی دوسری صدی جس میں ہم دس بارہ سال کے بعد داخل ہونے والے ہیں غلبہ اسلام کی صدی ہے اور اس صدی میں انشاء اللہ اللہ تعالیٰ ہی کے فضل اور اس کے رحم سے دنیا کی اکثریت اسلام میں داخل ہو جائے گی۔پس غلبہ اسلام کی بہت بھاری ذمہ داری جماعت احمدیہ پر ڈالی گئی ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ہمیں ہر وقت کوشاں رہنا چاہئے۔