سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 355
سبیل الرشاد جلد دوم 355 سید نا حضرت خلیفة المسیح الثالث رحم اللہ تعالیٰ کا افتاحی خطاب فرموده ۱/۲۷ خاء۱۳۵۷ بهش ۲۷/اکتوبر ۱۹۷۸ء بمقام احاطه دفاتر مجلس انصاراللہ مرکز یہ ربوہ سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ ۲۷/ اخاء ۱۳۵۷ ہش بمطابق ۲۷ / اکتوبر ۱۹۷۸ء کی سہ پہر مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع کا افتتاح کرتے ہوئے جو خطاب فرمایا تھا ، اُس کا مکمل متن افادہ احباب کے لئے ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: عرصہ ہوا میں نے انصار اللہ کو ایک بات بتائی تھی۔میرا خیال ہے کہ بہت سے انصار وہ بات بھول چکے ہیں۔میں نے بتایا تھا کہ انصار جوانوں کے جوان ہیں۔وہ بوڑھے نہیں ہیں۔وہ اپنے آپ کو جوانوں کے جوان سمجھیں۔یہ فقرہ انصار پر بہت سی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے۔ایک تو یہ اس بات کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ انسان کے نفس کے بھی اس پر بہت سے حقوق ہیں۔اُن میں سے پہلا اور بنیادی حق یہ ہے کہ اپنی صحتوں کو ٹھیک رکھا جائے اور جسموں کو مضبوط بنایا جائے۔انسان کی وہ عمر جس کو ہم بڑھا پا کہتے ہیں اس کے متعلق کسی شاعر نے کہا ہے ضعف و ناطاقتی و سستی و اعضا شکنی ایک گھٹنے سے جوانی کے بڑھا کیا کیا کچھ بر جو بڑھاپا ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جسم کو جس قسم کے کھانے کی عادت ہوتی ہے ، بہت سی وجوہات کی بناء پر ایک خاص عمر کے بعد انسان وہ کھانا نہیں کھا سکتا۔کچھ نفسیاتی چیزیں بھی بیچ میں آ جاتی ہیں، کچھ