سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 345
345 سبیل الرشاد جلد دوم غرض مُنْعَمُ عَلَیہ کے حقیقی معنے میں مصداق جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے دو گروہ ہیں۔ایک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور خیر القرون کے زمانہ کے بزرگ جو بڑی کثرت سے ہیں اور جنہوں نے لوگوں کی بھلائی کے لئے یہ کام کیا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی جو تفسیر بیان فرمائی تھی اس کو احادیث کی کتب میں جمع کر دیا۔اُن کو جو تفسیر سمجھ آئی وہ لکھ دی ، جو کچھ دوسروں سے سنا وہ لکھ دیا۔اگر اُن کو کچھ تاریخی شواہد ملے صحیح یا غلط اُن کو اپنی تفسیر وں میں لکھ دیا۔لیکن اُن کے سامنے یہ مقصد نہیں تھا کہ امت فرقہ فرقہ نہ ہو جائے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ عملاً فرقہ فرقہ بن گئی۔اگر خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہوتا کہ ان بزرگوں کے کثیر گروہ کے نتیجہ میں اُمت میں فرقے نہیں پیدا ہوں گے تو ہر گز نہ پیدا ہوتے کیونکہ خدا تعالیٰ کے حکم کے خلاف تو کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔پس یہ تو تھے ہمارے بزرگ مفسرین، محدثین اور فقہاء جو اپنے اپنے علم کے اساتذہ اور امام تھے۔اسی طرح متکلمین ہیں گو یہ زیادہ تر بعد کے زمانہ میں ہوئے لیکن متکلمین نے مناظرے کرنے شروع کر دیے تھے اور پھر ان کو ایسی عادت پڑی مناظرے کرنے کی کہ سرحدوں پر دشمن اپنی فوجیں لے کر حملہ آور ہو رہا ہوتا تھا اور شہروں میں، بازاروں میں لوگ دومنا ظر علماء کا مناظرہ سننے میں دلچسپی لے رہے ہوتے تھے۔اس بات کو ہماری تاریخ نے ریکارڈ کیا ہے کہ ایسے حالات بھی پیدا ہو گئے تھے کہ لوگ سرحدوں کی حفاظت کی بجائے مناظرے سننے میں راتیں گزار رہے ہوتے تھے۔لیکن مُنْعَمُ عَلَيْهِ کا یہ جو گر وہ ہے جس کا تعلق حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور پھر خیر القرون کے ساتھ ہے، اس زمانہ میں تو کوئی تفرقہ پیدا نہیں ہوا بلکہ انہوں نے ہر میدان اور ہر علم میں ترقی کی اور ہمارے استفادہ کے لئے بہت سا قیمتی مواد اکٹھا کر دیا۔بہت سی کتابیں مفقود ہو گئیں۔کہا جاتا ہے کہ اب بھی دُنیا کی بعض لائبریریوں میں بعض کتابیں محفوظ ہیں۔خدا کرے کہ وہ جماعت احمد یہ کومل جائیں کیونکہ ان کتابوں میں بڑے کام کی باتیں ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ماسکو کی لائبریری میں بھی مسلمانوں کا بہت سا لٹریچر محفوظ ہے۔خدا کرے کہ وہ محفوظ رہے اور پھر یہ لوگوں کے سامنے آ جائے۔پس یہ ثُلَّةٌ مِّنَ الأَوَّلِینَ کا جو گروہ کثیر ہے اس کے اندر ہمیں یہ چیز نظر نہیں آتی کہ اس گروہ کثیر کا مقصد یہ تھا کہ دنیا میں اسلام کو غالب کیا جائے کیونکہ اُن کے زمانہ میں ایسا نہیں ہوا۔یہ کام تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کرنا ہے۔آپ کے زمانہ میں ادیان باطلہ کا زور ہوا مثلاً عیسائیت ہے، دہریت ہے اور ہندو ازم ہے یہ سب اپنے اپنے علاقوں میں اسلام پر حملہ آور تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ اسلام کو مٹا دیں گے لیکن پیشگوئی یہ تھی۔لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ -