سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 339 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 339

339 سبیل الرشاد جلد دوم ہوئے ہمارے پہلے بزرگوں نے بھی یہی بتایا ہے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے بھی یہی پتہ لگتا ہے اور پھر وحی و الہام کے ذریعے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی یہی بات بتائی گئی ہے۔پس یہ گروہ کثیر ہے مفسرین۔محدثین۔متکلمین اور دیگر اخیار و ابرار کا جو کسی مرکزی نقطہ کے ساتھ بندھا ہوا نظر نہیں آتا۔یہ لاکھوں بزرگ جب کسی نقطہ مرکزیہ کے ساتھ بندھے ہوئے نہیں تھے تو اس سے جو چیز پیدا ہونی تھی وہ پیدا ہوئی اور وہ یہ کہ امت محمدیہ میں وحدت نہیں پیدا ہوسکی۔اور نہ پیدا ہونی ہئے تھی کیونکہ انسان کو امت واحدہ بنانے کا کام مہدی اور مسیح کے سپر دکھا اور ان کی بعثت میں ابھی دیر نفی۔پہلی تین صدیوں میں گو اسلام کو بہت ترقی حاصل ہوئی لیکن اُس وقت امت واحدہ بنانے کا وعدہ ہی نہیں تھا۔اب میں مثال کے طور پر بعض مضامین کو لیتا ہوں۔میں نے حوالے تو بہت نکلوائے ہیں لیکن وہ سب اس وقت بیان نہیں ہو سکیں گے۔میں پہلے علم تفسیر کو لیتا ہوں۔مفسرین میں جو چوٹی کے نام لئے جاتے ہیں اُن میں حضرت حسن بصری ہیں ۲۱ھ میں ان کی ولادت ہوئی اور ۱۱۰ ھ میں ان کی وفات ہوئی۔حضرت زید عدنی مدنی ہیں جن کی ۱۳۶ھ کو وفات ہوئی۔حضرت عطا بن دینار ہیں ۱۲۶ھ میں ان کی وفات ہوئی۔ان کا بھی چوٹی کے مفسرین میں شمار ہوتا ہے۔پھر عبدالرحمن مغربی ہیں۔عبداللہ سجستانی ہیں۔انہوں نے اپنی تفسیر میں ناسخ منسوخ کی بحث چھیڑ دی۔کچھ مفسرین سمرقند کے ہیں۔کچھ بخارا کے ہیں اور کچھ افریقہ کے ہیں۔قطیبہ بن شریح وہ مفسر ہیں جنہوں نے اپنی تفسیر میں شیعہ خیالات بیان کئے ہیں۔شیعہ بزرگوں میں سے امام حسن عسکری مفسر ہیں۔جب ہم ان بزرگوں کی تفسیروں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اُمت کا ایک حصہ ایک مفسر کے ساتھ چمٹ گیا اور دوسرا حصہ دوسرے کے ساتھ چمٹ گیا۔مفسرین میں سے جو شیعہ خیالات کے تھے اُن کی تفسیروں کے ساتھ شیعہ فرقے چمٹ گئے یعنی وہ ان کو شوق سے پڑھنے لگے۔ان کو سمجھنے لگے اور اپنی نسلوں کو اس کی تعلیم دینے لگے اور اس طرح ہر فرقہ علیحدہ علیحدہ نمایاں ہونا شروع ہو گیا۔دوسرے قرآن کریم کی تفسیر کے جو اصول ہیں ان کو ان تفاسیر میں ایک حد تک نظر انداز کیا گیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان اصولوں کو پھر کھول کر بیان کیا تا کہ تفسیر کرتے ہوئے آگے پھر تفرقہ نہ پیدا ہو۔مثلاً ایک یہ اصول ہے کہ قرآن کریم اپنی تفسیر خود بیان کرتا ہے۔اس کی بعض آیات کی تفسیر بعض دوسری آیات کر رہی ہوتی ہیں۔تفسیر قرآن کا ایک یہ اصول بھی ہے کہ قرآن کریم چونکہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اس کے اندر کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔قرآن کریم کی دو آیات جو مختلف جگہوں سے لی گئی ہوں اُن کی