سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 328
سبیل الرشاد جلد دوم 328 پس جو باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام بتائی گئی تھیں وہ باتیں اب واقعہ پوری ہو رہی ہیں اور یہ بڑے عظیم الشان نشان ہیں لیکن اگر آپ اُن کو پڑھیں گے نہیں تو ان سے واقفیت کیسے ہو گی۔اگر آپ کے بچے نہیں پڑھیں گے اور دنیا کا گندہ اثر تو لیتے رہیں گے اور جو چیز میں اس گندے اثر کو مٹانے والی ہیں وہ آپ کے گھروں میں داخل نہیں ہوں گی۔اس لئے پہلی بات میں آج آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے گھروں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے رکھنے اور اُن کا مطالعہ کرنے اور بچوں کو سُنانے کا انصار اللہ کے ذریعہ کوئی انتظام ہونا چاہئے اور اس کی کوئی خاطر خواہ نگرانی بھی ہوئی چاہئے کہ عملاً ایسا ہو رہا ہے۔مجلس موصیان کی ذمہ داری میں نے حکمت کے ماتحت موصیان کی انجمن بنائی تھی۔اس کام کی نگرانی کا ذمہ دار میں اُن کو ٹھہراتا ہوں۔وہ اس بات کی نگرانی کریں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ہر جگہ موجود ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ ایک ہی وقت میں ساری خرید لو۔بہت سے لوگوں کے پاس اتنی رقم ہی نہیں ہوتی کہ وہ ساری کتب ایک وقت میں خرید سکیں۔کتب حضرت مسیح موعود خرید نے کا طریق میں یہ کہتا ہوں کہ بے شک تم تین مہینے میں ایک کتاب خرید ولیکن خرید وضرور۔اور خریدنے کا عمل اس طرح جاری رکھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کتاب سب سے آخر میں لکھی ہے اُسے پہلے خریدو اور پھر اسی طرح پچھلی طرف چلتے چلے جاؤ۔اور یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخاطب وہ علماء تھے جو کہتے تھے کہ آپ کو تو نہ دین کا علم آتا ہے اور نہ عربی کا۔اس لئے آپ اپنی ابتدائی کتابوں میں بڑی گہرائی میں گئے ہیں۔مثلاً براہین احمدیہ ہے۔گو یہ ایک بڑی عظیم کتاب ہے۔لیکن اس کا عام آدمی کے لئے سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔یہ اتنی دقیق کتاب ہے کہ میں نے مکرم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب سے کہا کہ اس کا انگریزی میں ترجمہ کریں تو اگر چہ انہوں نے پہلے بھی اس کو کئی بار پڑھا ہوا تھا اب اس کا کچھ حصہ ترجمہ کرنے کی خاطر پڑھ کر کہنے لگے کہ کسی عالم کو میرے ساتھ لگا ئیں جو پہلے مجھے یہ کتاب پڑھائے پھر میں اس کا ترجمہ کر سکوں گا۔وہ کہنے لگے کہ قرآن کریم کا ترجمہ کرنے میں یہ آسانی ہے کہ بہت سے تراجم ہو چکے ہیں اُن سے رہنمائی مل جاتی ہے لیکن اس کا پہلی دفعہ ترجمہ کرنا ہے اور اس کی عبارتیں سمجھنے میں مشکل پڑ جاتی ہے۔