سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 304
سبیل الرشاد جلد دوم 304 ہیں اور ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔تم اپنے آپ کو احمدی مسلمان سمجھو اور اپنے آپ کو احمدی مسلمان کہو اپنے عقائد کی تبلیغ کرو تمہیں کون روک سکتا ہے جب کہ خود دستور تمہیں اس کا حق دیتا ہے۔اسلام ہماری روح اور دل کی غذا ہے لیکن بعض لوگ جو فتنہ پیدا کرنے والے ہیں اور جن میں سچ اور جھوٹ کی تمیز نہیں۔وہ ہمارے خلاف جُھوٹ بولتے رہتے ہیں۔میں نے بتایا کہ میں نے جو بات کہی تھی اُس کے اُلٹ لکھ دیا۔حالانکہ میں نے تو کہا تھا کہ کوئی جو چاہے ہمیں سمجھے۔ہم اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اور سمجھتے رہیں گے۔کیونکہ ہم اسلامی تعلیم پر عمل پیرا ہیں۔اسلام ہماری زندگی ہے۔یہ ہماری رُوح اور دل کی غذا ہے اسے چھوڑ کر ہم نے کہاں جانا ہے۔اسلام کو چھوڑنے سے تو ہزار درجہ بہتر ہے کہ دُنیا ہمیں قتل کر دے۔ہم مرنے سے نہیں ڈرتے۔ہم اپنے خدا کی ناراضگی اور قہر سے ڈرتے ہیں۔لوگ ہمیں اسی (۸۰) سال سے کافر کہتے چلے آ رہے ہیں اور یہ تو "Not Muslim" سے بھی زیادہ سخت لفظ ہے۔لوگوں نے ہماری ہر لحاظ سے Wholesale Condemnation کی کہ تم مسلمان نہیں۔کسی لحاظ سے بھی مسلمان نہیں۔ہر لحاظ سے "Not Muslim" ہو۔مگر ہم ایسے لوگوں سے کہتے ہیں تم اسی (۸۰) سال سے یہ کہہ رہے ہو۔تمہاری ان آوازوں ، تمہارے اس غصے ، تمہاری ان تیوریوں اور تمہاری آنکھوں کی اس سُرخی نے ہمیں کبھی پریشان نہیں کیا اس لئے کہ ان آوازوں اور ان مخالفتوں کے ساتھ ساتھ ایک اور نہایت میٹھی ، بڑی محبت بھری اور نہایت حسین آواز ہمارے کانوں میں پڑتی ہے یعنی خدائے ذوالعرش ہمیں یہ تسلی دیتا ہے کہ تم اس شخص کے ماننے والے ہو جسے خُو دخدا نے یہ فرمایا تھا کہ وہ دُنیا میں یہ اعلان کر دے۔أَنَا أَوّلُ المُسْلِمِينَ میں ہی سب سے بڑا مسلمان ہوں۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے۔ہم آپ کے ماننے والے ہیں۔اپنے آپ کو مسلمان نہ کہنے کا ناگزیر مطلب اس وقت ہر احمدی کے ذہن پر بڑا دباؤ پڑ رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو Not" "Muslim کہنا شروع کر دے یا کافر کہنا شروع کر دے۔آپ نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ مثلاً با بو قاسم الدین صاحب اپنے آپ کو غیر مسلم کہنے لگ جائیں وہ دراصل یہ چاہتا ہے کہ بابو قاسم الدین صاحب ( اور اسی طرح دوسرا ہر احمدی جس کے متعلق وہ غلط فہمی میں امید