سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 283 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 283

283 سبیل الرشاد جلد دوم رہی ہیں ، اُن سے آگاہی حاصل کریں۔ہم نے حضرت مہدی معہود علیہ السلام کو مہدی معہود علیہ السلام علیٰ وجہ البصیرت اور پورے یقین کے ساتھ مانا ہے۔ہم نے اپنی آنکھوں ، دل اور دماغ سے پورا کام لیتے ہوئے مہدی معہود علیہ السلام کے دعوئی پر غور کیا اور اُسے صحیح پایا اور آپ کی صداقت کو تسلیم کیا۔یہ وہ صداقت ہے جس پر آسمان نے گواہی دی۔یہ وہ صداقت ہے جس پر زمین نے گواہی دی۔مہدی معہود علیہ السلام وہ وجود ہے جس کی صداقت پر پہلوں نے گواہی دی اور جس کی صداقت پر قرآن کریم بھی گواہ ہے۔یہ وہ موعود ہے جس کی علامتیں نہ صرف مخبر صادق حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں بلکہ آپ سے پہلے کے انبیاء علیہم السلام نے بھی بتائی ہیں اور پھر وہ علامتیں حضرت مہدی معہود علیہ السلام کے وجود میں پوری بھی ہو گئیں جن کا پورا کرنا انسان کے بس میں نہ تھا۔مثلاً کہا گیا تھا کہ مقررہ دنوں میں مقررہ مہینہ میں آگے پیچھے سورج اور چاند کو گرہن لگے گا۔اب گرہن لگنا میرے اور تیرے اختیار میں تو نہیں اور نہ مدعی مہدویت کے اختیار میں تھا۔جس وقت یہ نشان ابھی ظاہر نہیں ہوا تھا معترض اعتراض کرتا تھا کہ ہم کیسے ایمان لائیں۔مہدی کی تو یہ علامت تھی اور یہ ظاہر نہیں ہوئی۔مگر جب وہ علامت ظاہر ہوگئی تو کہنے لگے یہ حدیث جھوٹی ہے۔کیا یہ حدیث اس لئے جھوٹی ہے کہ یہ حرف بحرف پوری ہو گئی ہے؟ کیا تمہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ جو حدیث عملاً پوری ہو جائے ، اُس کو جھوٹا قرار دے دو۔مگر تمہارے نزدیک مہدی معہود کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی حدیث کے متعلق اپنی نورانی فراست سے اور خدا سے علم حاصل کر کے یہ کہے کہ وہ قابل قبول نہیں ہے۔تمہیں تو یہ حق پہنچتا ہے کہ تمہارا ہر فرقہ حدیث کے اپنے مطلب کے معنے کر لے مگر کیا مہدی معہوڈ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ یہ کہے تم جو معنی کر رہے ہو یہ غلط ہیں۔حالانکہ مہدی کو تو خدا کے بزرگ ترین انسان حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حَكَمُ قرار دیا ہے۔اُس نے تو فرقے فرقے کے درمیان فیصلہ کرنا تھا۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ مختلف فرقے مہدی معہود کے خلاف کیوں اکٹھے ہو گئے۔اس لئے اکٹھے ہوئے کہ ہر فرقہ کہتا ہے کہ چونکہ ہمارے فرقہ کے بعض عقائد کو مہدی معہوڑ نے غلط قرار دیا ہے اس لئے إِنْ لِمَهْدِيّنَا ايَتَيْنِ لَمْ تَكُونَامُنُدُ خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ يَنْكَسِفُ القَمَرُ لِأَوَّل لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِى النِّصْفِ مِنْهُ وَلَمْ تَكُونَا مُنْدُ خَلَقَ اللهُ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ (دار قطنی صفحه ۱۸۸) قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوْشَكَنْ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَما عَدْلاً فَيَكْسِر الصَّلِيْب وَيَقْتُلُ الْخَنْزِيرَ وَيَضَعُ الْحَرَبَ وَيَفِيْضُ الْمَالَ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ حَتَّى تَكُونَ السَّجَدَةُ الْوَاحِدَة خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ( بخاری کتاب الانبیاء باب شدة الزمان )