سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 10
10 سبیل الرشاد جلد دوم پیدا ہوتی ہے اور وہ سوچتا ہے اور کڑھتا ہے کہ میں کس ملک میں پیدا ہوا ہوں۔یہاں تو کسی بیمار کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا حالانکہ اس کی اپنی اقتصادی حالت اور استعداد کے مطابق بغیر کوئی بار ڈالے اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔بہت سارے نسخے تو انسان کو خود یا د ہونے چاہئیں کہ ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہ پڑے اور بیماری بھی چلی جائے۔لیکن اصل علاج تو دعا ہے۔ہم میں سے بہتوں نے بڑے عجیب نظارے دیکھے ہیں بلکہ ہزاروں نے ایسے نظارے دیکھے ہوں گے کہ بعض دفعہ بڑے خطر ناک مریض بھی صرف دعا سے اور مٹی کی چٹکی سے یاد ھیلے کی دوائی سے اچھے ہو جاتے ہیں۔عرب صحابہ کی قربانیاں بہر حال ہمیں یہ عادت نہیں ڈالنی چاہئے کہ ہم گاؤں میں زندگی نہیں گزار سکتے۔ہم خود کھانا پکا کر زندہ نہیں رہ سکتے۔اگر ہم میں یہ عادت ہو تو ہم دین کے کام کس طرح کریں گے۔ہمارے بزرگ اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمتیں ہوں اُنہوں نے تو اپنی زندگیاں اس طرح بنائی ہوئی تھیں کہ وہ کھانا پیٹ میں ڈالنے کی بجائے پیٹ کے باہر پتھر باندھ کر کئی کئی دن گزار دیتے تھے اور یہ صحت کو قائم رکھنے کا نتیجہ ہے اور یہ اس بات کا بھی نتیجہ ہے کہ انہوں نے کوئی بُری عادت نہیں ڈالی تھی۔یہ صحیح ہے کہ جب تک ستھری اور صاف چیز ملے۔مومن کو صاف اور ستھری چیز ہی استعمال کرنی چاہئے۔لیکن جب صاف اور ستھری چیز نہ ملے تو جو چیز بھی ملے اسی پر زندہ رہنے کی کوشش کرنی چاہئے۔جب عرب لوگ صحراؤں میں سے گزرتے تھے اور ہمارے بڑے پایہ کے صحابہ بھی بعض موقعوں پر اس گروہ میں شامل ہوتے تھے تو وہ ایسے علاقوں میں سے گزرتے تھے جہاں پینے کا پانی نہیں ملتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اونٹ کی کوہان کے پاس ایسا انتظام کیا ہوا ہے کہ وہ کئی دن تک کا پانی اپنے لئے محفوظ رکھتا ہے۔کو ہان کے ساتھ ایک مشکیزہ سا خدا تعالیٰ نے بنایا ہوا ہے اس میں اونٹ پانی جمع رکھتا ہے اور اس کا جسم اس میں سے حسب ضرورت پانی لیتا رہتا ہے۔عرب لوگ جب پانی نہیں ملتا تھا تو اونٹ ذبح کر کے اس کے اس مشکیزہ کا پانی جس میں پتہ نہیں کیا کچھ ملا ہوا ہوتا تھا نکال کر پی لیتے تھے۔اگر وہ یہ کہتے کہ ہمیں جب تک صاف چشموں کا پانی نہ ملے ہم نے سفر نہیں کرنا تو آج بجائے اس کے کہ مسلمان قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کو اپنے پاؤں کے نیچے پامال کر کے تاریخ میں ہمیں دنیا کے حاکم نظر آتے وہ حکومتیں عرب کو مٹا چکی ہوتیں۔پہلے تو وہ اس لئے خاموش تھیں کہ وہ بجھتی تھیں کہ یہ علاقہ ہمارے زیرنگیں ہے لیکن جب عرب ایک دفعہ اُٹھے اور اسلام کے نام پر اٹھے۔خدا تعالیٰ کے نام پر اُٹھے اگر اس وقت ان کے اندر اس قسم کی خاص ذہنیت پیدا نہ ہو جاتی یا اس قسم کے جسم انہوں نے نہ بنائے