سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 270 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 270

سبیل الرشاد جلد دوم 270 ساڑھے سات سوسائیکل ربوہ کے خدام کے پاس ہیں۔گویار بوہ میں اُس دن کل چودہ سو خدام سائیکل موجود تھے۔اور آج جو مجھے رپورٹ ملی ہے اس کے مطابق شاید اکتیس انصار سائیکل کے ذریعہ اپنے اجتماع میں شامل ہونے کے لئے ربوہ کے باہر سے آئے ہیں۔تاہم یہ کوئی کمزوری نہیں کیونکہ اس کے لئے انہیں نہ تو تحریک کی گئی اور نہ تیاری کروائی گئی۔بہر حال اب آئندہ کے لئے میں بتا رہا ہوں کہ میں ہزار انصار سائیکل سوار ، دس ہزار اطفال سائیکل سوار اور ستر ہزار خدام سائیکل سوار سات سال کے اندر اندر جتنی جلدی ہو سکے مجھے چاہئیں۔آپ کوشش کرتے چلے جائیں۔اب سائیکل کی قیمت چار سو روپے سے او پر ہوگئی ہے۔ایک لاکھ سائیکل کا مطلب ہے چار کروڑ روپے۔یہ بہت بڑا خرچ ہے۔پس جولوگ نیا سائیکل نہیں خرید سکتے وہ سکینڈ ہینڈ لے لیں۔جب میں آکسفورڈ میں داخل ہوا تو کئی دوستوں نے کہا کہ سائیکل پر سوار ہو کر باہر ڈور سیر کو جایا کریں گے۔میں نے کہا میرے پاس تو سائیکل نہیں ہے۔اُنہوں نے کہا کہ سائیکل کا یہاں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ایک طالب علم نیا خریدتا ہے۔جب جاتا ہے تو کسی کو دے جاتا ہے۔پھر وہ بعد میں آنے والے کو دے جاتا ہے۔اس طرح سائیکل طالبعلموں کی کئی نسلیں گزار کر بھی یہاں موجود ہیں۔میں نے کہا بڑی اچھی بات ہے چنانچہ اُس زمانہ میں جب پونڈ کی قیمت گیارہ روپے کے برابر تھی میں نے چھپیں شلنگ یعنی چودہ روپے کا ایک سائیکل خریدا۔وہ بڑا پرانا تھا۔لیکن میرے کام کا تھا۔جب ہم نے جانا ہوتا تھا تو اُس پرانے سائیکل پر بیٹھ کر باہر چلے جاتے تھے۔پندرہ بیس یا تمیں میل تک اتوار کے دن سیر کر آتے تھے۔ورزش بھی ہو جاتی تھی۔پس ضروری نہیں کہ نئے سائیکل ہی لئے جائیں۔ہاں جو نئے لے سکتے ہیں وہ ضرور نئے لیں۔جو نئے نہیں لے سکتے اُن کو اگر کہیں سے بیس روپے کا سائیکل بھی ٹوٹا پھوٹا مل جائے تو لے لیں اور اسے ٹھیک کریں۔تھوڑے سے پرزے اُس کے اندر ڈال لیں اور اُسے قابل استعمال بنالیں۔میں نے مشاورت پر مجلس شوری کو کہا تھا کہ میں اُس ضلع کو جو خدام الاحمدیہ کی نگرانی میں اپنے ضلع میں سائیکل سواروں کے وفود بھیج کر ہر شہر اور قصبہ اور چھوٹے گاؤں سے ملاپ کرے ایک ہزار رو پیدا نعام دوں گا۔اس میں ہمارے نقطہ نگاہ سے جو بڑی حکمت ہے وہ یہ ہے کہ اگر ہمارا دعویٰ تو یہ ہو کہ ہم اُس امت کے زندہ رکن ہیں جن کو خدا نے اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کہا۔یعنی دنیا کی بھلائی کے لئے جنہیں پیدا کیا گیا ہے۔اور حال ہمارا یہ ہو کہ اپنے ضلع کے گاؤں کے اقتصادی حالات اور وہاں کے لوگوں کی تکالیف سے بے خبر ہوں تو أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ہونے کا دعویٰ ہم کس طرح کر سکتے ہیں۔کہ ہم اُس اُمت کے زندہ