سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 233
سبیل الرشاد جلد دوم 233 بشارتیں پوری ہوں گی اور جماعت احمد یہ اسلام کو دنیا میں غالب کرے گی اور ہر دل میں خدا تعالیٰ کی تو حید کا جھنڈا گاڑ دیا جائے گا۔اور ہر نفس انسانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر لا رکھا جائے گا۔اس وقت ہاں اس وقت ہر ایک آدمی ایک دوسرے کا خادم ہو گا۔غرض اس وقت جماعت احمدیہ نے ایک مختصر تعداد کے باوجود تمام بنی نوع انسان کا خادم بنتا ہے۔یہ ذہنیت اس کے اندر پیدا ہونی چاہئے تا کہ وہ بشارت پوری ہو کہ تمام دنیا میں اسلام کا جھنڈا لہرانے لگے۔اور قرآن عظیم کی حکومت قائم ہو جائے۔پھر کون خادم اور کون آتاہم سارے ہی ایک دوسرے کے خادم ہوں گے۔اس وقت آقا بننے کے لئے جد و جہد نہیں کی جایا کرے گی اس وقت اچھے خادم بننے کے لئے جد و جہد ہو گی۔اور اسی میں انسان کو لذت اور پیار ملے گا اور اسی کے بعد خدا تعالیٰ اپنے بندے کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ میرے بندوں میں سے تجھ سا پیارا کوئی نہیں پیدا ہوا۔میں نے کہا تھا کہ تمہیں بطور اخرجَتْ لِلنَّاسِ پیدا کیا گیا ہے۔اور تم نے اپنی عملی زندگی میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ واقعی تم لوگوں کی بھلائی اور بہتری کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔پس دوست اس حقیقت کو سمجھیں تا کہ آپ اس بشارت کو پاسکیں جو ایک عظیم بشارت ہے۔اور جس کا حلقہ ساری دنیا پر پھیلا ہوا ہے۔اسی واسطے میں نے شروع میں کہا تھا کہ آپ کی جد وجہد کی سرحد میں عوام الناس کی جہاں تک سرحدیں ہیں ، وہاں تک پہنچتی ہیں۔اگر وہاں تک نہ پہنچیں تو آپ اس بشارت کے کیسے حامل ہو سکتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے اس انتہائی پیار کو جس کو پہلوں نے بڑی کثرت سے پایا اور جس کا وعدہ بعد میں آنے والوں کے لئے یعنی اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں جماعت احمدیہ کے ذریعہ بھی پورا ہونا ہے۔لیکن یہ وعدہ آپ کی غفلتوں کی وجہ سے پورا نہیں ہوگا۔آپ کی سستیوں اور نالائقیوں کی وجہ سے پورا نہیں ہوگا بلکہ آپ کے اس مقام کو سمجھنے کے بعد اپنی ساری کوشش دنیا کی خدمت میں لگا دینی پڑے گی۔تب خدا تعالیٰ کے فرشتے آ کر وہ کام کریں گے جو آج انسان کی طاقت سے باہر نظر آ رہا ہے۔خدا کرے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو پانے والے ہوں۔“ ( غیر مطبوعہ )