سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 217 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 217

217 سبیل الرشاد جلد دوم پتہ نہیں کس طرح اس بیچارے نے میٹرک پاس کیا۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی پڑھائی کے لئے مدد کر نے کی توفیق عطا فرمائی اور اب وہ وکیل ہے۔اس پر ہمارا کوئی احسان نہیں ہے۔ہم خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق بخشی۔یہ اس کا حق تھا۔دوسرے لوگ اُسے دے نہیں رہے تھے۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ ہم اُسے یہ حق دے دیں۔اب اس کا گھر ایک مزدور کا گھر نہیں رہا۔وہ ایک وکیل کا گھر بن گیا ہے۔دنیوی نقطہ نگاہ سے بھی اس میں بڑا فرق ہے اور عزت کے لحاظ سے بھی اور مال کے لحاظ سے بھی بڑا فرق ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم اپنے قول اور فعل سے قرآن کریم کی اشاعت میں لگے رہو گے اور اشاعت قرآن کے لئے اپنی طرف سے انتہائی کوشش کرو گے یعنی وہ کوشش جس کو کبھی ہم غلبہ اسلام کی کوشش کہتے ہیں، کبھی اشاعت اسلام کی کوشش کا لفظ بولتے ہیں۔کبھی ہم خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کے الفاظ بولتے ہیں اور دراصل ہر کوشش کا آخری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے پیار ہو۔کیونکہ اللہ ہی اللہ ہے اور یہ حقیقت ہے اس میں ذرا بھی مبالغہ نہیں ہے۔باقی تو سارے وسائل ہیں یا غیر متعلق چیزیں ہیں۔دنیا نے غیر متعلق بنا دیا ہے ورنہ اصل میں تو اللہ تعالیٰ نے سب چیزوں کو وسائل ہی بنایا تھا اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا۔اشاعت قرآن کریم کی کوشش اور افضال الہیہ بہر حال اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو میری راہ میں اشاعتِ قرآن کی کوشش ہوگی ، وہ تمہیں اس گروہ میں شامل نہیں کرے گی جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ بلکہ اس گروہ میں شامل کرے گی۔جس کے متعلق اس نے فرمایا ہے۔وُجُوهٌ يَوْمَبِذٍ نَاعِمَةٌ لِسَعْيِهَارَاضِيَةً یعنی جو اپنی کوشش کے نتیجہ سے راضی اور مطمئن ہوں گے اور وہ سمجھیں گے کہ ان کی کوشش کا نتیجہ بہت زیادہ نکل آیا۔اس لئے کہ مثلاً ایک غریب آدمی ہے اس کی انتہائی کوشش دس روپے ہو سکتی ہے۔لیکن ساری دنیا میں اشاعت اسلام کے لئے دس روپے تو کوئی کوشش نہیں۔مگر یہ بھی خدا تعالیٰ کا بڑا رحم ہے کہ انتہائی کوشش دس روپے بلکہ انتہائی کوشش چار آنے بھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔اب یہ چار آنے کی انتہائی کوشش تھی جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں فرمایا ہے۔آپ نے ایسے لوگوں کا جنہوں نے چار آنے میں انتہائی کوشش کو پایا اور خدا کے حضور وہ قربانی پیش کر دی ، ان کا نام قیامت تک کے لئے دعا کے لئے محفوظ کر دیا۔