سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 186
سبیل الرشاد جلد دوم حضرت عیسی علیہما السلام وہ یا ان کے ماننے والے کس طرح تم سے برابری کا دعوی کر سکتے ہیں۔اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرنے کا خدائی فیصلہ 186 احمدیت نے آج پھر تمہیں برابر قرار دے دیا۔پہلے زمانہ میں بھی برا بر قرار دیا۔وہ بھی میں مثالیں دیتا تھا۔حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اور دوسروں کی رضوان اللہ علیھم اجمعین۔لیکن ایک تنزل کا دور بھی آیا۔ہمیں آنکھیں بند کر کے حقائق کا انکار نہیں کرنا چاہئے ،ٹھیک ہے۔لیکن وہ دور تنزل کا ختم ہو گیا۔اب خدا نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرے۔اس محبت اور مساوات اور ہمدردی اور خیر خواہی کے پیغام کے ذریعہ ، تو میں نے انہیں کہا کہ اب تمہیں آئندہ کوئی حقارت اور نفرت سے نہیں دیکھے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اس ندا کو دوبارہ دنیا میں پھیلا یا گیا ہے کہ سب انسان برابر ہیں۔کوئی شخص اب تم سے نفرت نہیں کرے گا۔اب گزر گیا تم سے نفرت کرنے کا زمانہ۔اب تو اسلام کا سورج طلوع ہو چکا ہے گو نصف النہار تک نہیں پہنچا لیکن طلوع ہو چکا ہے۔صبح صادق نمایاں ہو چکی ہے۔سورج نکل آیا ہے۔اب خدا تعالیٰ نے احمدیت اور اسلام کے ذریعہ تمہاری عزتوں اور تمہارے احترام کا انتظام کر دیا ہے۔تمہیں اب حقارت اور نفرت سے کوئی نہیں دیکھے گا۔یہ اعلان آپ تبھی کر سکتے ہیں کہ جبکہ آپ کے دل میں یہ ایمان پختہ ہو کہ لوگوں سے نہیں ڈرنا اور صرف اللہ سے ڈرنا ہے۔افریقہ کے دورہ کے بعد اسی مارشل لاء کے ایک بہت بڑے افسر کو میں ملا تو بڑے حیران ہو کر مجھ سے پوچھنے لگے کہ یعقو بو گوون نے آپ کو ملاقات کے لئے وقت دے دیا تھا۔تو میں نے انہیں کہا کہ خالی ملاقات کا وقت ہی نہ دیا تھا وہ تو میرے ساتھ اس طرح ملے جس طرح اپنے گھر کا ایک بچہ ہو۔تو ان کے واسطے حیرانی تھی، اس واسطے کہ ایک دنیا کا رعب اور وجاہت اسے حاصل تھی اور اسے مغرور ہونا چاہیے تھا کیونکہ امریکہ کے خلاف اور یورپ کی مداخلت کے خلاف اس نے خانہ جنگی جیتی تھی۔لیکن میرے ساتھ وہ مغرور نہیں تھا۔میرے ساتھ تو بچہ کی طرح ملا۔میرے ساتھ اس کا پیار کا طریق اتنا تھا کہ میں نے اس کی آزمائش کی۔جب ہماری ملاقات ختم ہوئی تو میں نے کہا کہ میں آپ سے معانقہ کرنا چاہتا ہوں تو وہ آ کر مجھ سے لپٹ گیا۔میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ میرے اس فقرہ کا اثر اس پر کیا ہوتا ہے۔اگر وہ جھینپا، اگر اس میں جھجک پیدا ہوئی تو میں یہ سمجھوں گا کہ یہ تکلفاً اور رسمی طور پر میرے ساتھ باتیں کر رہا ہے۔لیکن اگر رسمی باتیں نہ ہوئیں اور واقعی اس کے دل میں میرا پیار یا عزت خدا تعالیٰ نے قائم کی تو اس کا رد عمل میرے فقرہ پر کچھ اور ہوگا۔تو وہی ہوا جو میری خوشی کا باعث تھا۔یعنی وہ خود مجھ سے آ کر لپٹ