سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 173
سبیل الرشاد جلد دوم 173 اسم الله سیدناحضرت خلیفہ مسیح الثالث حمہ اللہ تعالی کا فتاحی خطاب فرموده ۱/۲۳ خاء۱۳۴۹ بهش ۲۳ اکتوبر ۱۹۷۰ء بمقام احاطه دفاتر مجلس انصاراللہ مرکز یہ ربوہ سیدنا حضرت خلیفہ مسح الثالث رحمہ اللہ تعلی نے مجلس انصاراللہ مرکز یہ کے پندرھویں سالانہ اجتماع کے موقع پر ۲۳ را خاء ۱۳۴۹ بهش مطابق ۲۳ اکتوبر ۱۹۷۰ء کو جو بصیرت افروز افتتاحی خطاب فرمایا درج ذیل ہے: غلبہ اسلام کے عظیم کام کے لئے بنیادی ذمہ واری اگلی نسل کی تربیت ہے حضور اقدس نے تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: غلبہ اسلام وہ عظیم کام ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کا قیام کیا ہے۔اس عظیم کام کا تعلق صرف ایک نسل سے نہیں ہے بلکہ نسلاً بعد نسل کئی نسلوں سے اس کا تعلق ہے اور یہ حقیقت بڑی عظیم ذمہ واریاں ہر اُس نسل پر جس کے بعد ایک نئی نسل آنے والی ہو ڈالتی ہے۔بنیادی ذمہ واری تو اگلی نسل کی تربیت ہے اور اس تربیت کے لئے ضروری ہے کہ انسان کے اندر خود مربی کی صفات ہوں۔جوشخص متقی نہیں اور جس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک زندہ اور پختہ تعلق نہیں ہے ، جو ایک عاجز خادم اور مزدور کے طور پر خود کو نہیں سمجھتا جو عاجزانہ راہوں کو اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حاصل نہیں کرتا وہ آنے والی نسل کی تربیت نہیں کر سکتا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔اب یہاں آنے والی نوجوان نسل کی تربیت کی ذمہ واری پہلوں پر ہے اور اس تربیت کے لئے خود کو تیار کرنے کی ذمہ واری بھی ان پر ہے اور یہ ضروری ہے کہ وہ خود متقی بہنیں اور خود اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق قائم کر کے اس کی رحمتوں کے وارث بنیں۔وہ فلسفیانہ طور پر اپنے رب پر ایمان نہ لا رہے ہوں بلکہ وہ اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ کی زندہ قوتوں اور طاقتوں کا مشاہدہ کرنے والے ہوں۔اگر وہ ایسے ہوں تب ہی اور صرف تب ہی وہ آنے والی نسل کی تربیت کر سکتے ہیں۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان وعدوں کو دُہرایا جو قرآن کریم میں امت مسلمہ کو دیئے گئے ہیں۔بنیادی طور پر قرآن کریم نے ایک ہی شرط رکھی ہے اور وہ ایمان کی پختگی اور ہمہ گیری ہے یعنی انسان کے سارے نفس کو ایمان نے اپنے احاطہ