سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 172
سبیل الرشاد جلد دوم 172 نبی کریم کو ایک مکمل کامل اور اعلیٰ نمونہ اور اسوہ کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے پیدائش انسانی کی غرض یہ ہے کہ انسان کا ایک زندہ تعلق اپنے قادر و توانا اور تی و قیوم خدا سے قائم ہو جائے۔اس کے لئے نمونہ کی ضرورت تھی کہ وہ کس قسم کا تعلق ہے جو اللہ اپنے بندہ سے چاہتا ہے کہ اس سے پیدا کرے اور اس کے بعد کس قسم کا سلوک اللہ تعالیٰ اپنے بندہ سے کرتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل جس قدر بھی انبیاء آئے ان کی بعثت کی غرض بھی یہی تھی لیکن چونکہ انسانیت ابھی اپنے ارتقاء کے کمال کو نہیں پہنچی تھی اس لئے قرآن کریم کے کچھ حصے ان قوموں کو دیئے گئے تھے۔بے شک ان انبیاء کو اپنی قوموں کے لئے ایک اچھا نمونہ بنایا گیا تھا لیکن وہ نمونہ ہر لحاظ سے کامل اور مکمل نہیں تھا بلکہ ایک نامکمل خوبصورت نمونہ ان کے سامنے رکھا گیا تھا اور ان سے یہ اُمید کی گئی تھی کہ وہ اپنی استعداد اور طاقت اور نشو ونما کے اس مقام کے لحاظ سے جہاں تک وہ پہنچے تھے اس نمونہ کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں پھر انسان اپنی روحانی ارتقاء کے بلند تر درجہ پر پہنچا اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں ایک کامل اور مکمل اور ارفع اور اعلیٰ اور نہایت ہی حسین اور خوبصورت نمونہ دیا گیا اور کہا گیا کہ اس نمونہ کے مطابق تم اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنو۔سبیل الرشاد جلد دوم صفحہ 145-146)