سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 167 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 167

167 سبیل الرشاد جلد دوم سلوک اور احسان کا دور ہے۔اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی ہر چیز قربان کر دینے اور خدا تعالیٰ کے لئے ایثار دکھانے کا دور ہے۔خدا تعالیٰ کے بندوں پر بھی اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جانے کا دور ہے۔اس قسم کی بے شمار نیکیاں ہیں جو نمایاں ہو کر دنیا کے سامنے آتی ہیں اور وہ ایک عالم بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے یعنی جو بدی کا عالم تھا اس کا بھی وہ ربّ ہے اور جو نیکی کا عالم ہے اس کا بھی وہ رب ہے۔یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان کیا ہے اور پھر فرمایا ہے کہ بدی کے عالم کو نیکی کے عالم میں تبدیل کرنے کے لئے رب العالمین ایسے لوگ پیدا کرتا ہے جو بدی کو کلیۂ مٹا کر نیکی کی حکومت کو اس جگہ قائم کرتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مطلب یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد وہ لوگ ہیں۔ایک فساد بپا تھا اور اب بھی ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ کا عالم ہے فساد اندھیرے ظلمتیں، دشمنیاں، غفلتیں ، سستیاں ، بد اعتقادیاں، بد اعمالیاں، لوٹ کھسوٹ، ظلم اور حقوق کی پامالی وغیرہ وغیرہ کتنے اندھیرے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے وقت کچھ تو چُھٹ گئے اور بہت سے ابھی باقی رہتے ہیں۔ان ظلمات کو دور کرنا۔ان اندھیروں کی بجائے اللہ تعالیٰ کے نور سے اس دنیا کو منور کرنا۔یہ جماعت احمدیہ کا کام ہے۔میں نے مضمون ذرا سادہ الفاظ میں مختصراً واضح کر دیا ہے تاجب میں عبارت پڑھوں تو آپ اس کو سمجھتے چلے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے قول رب العالمین میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اسی کی طرف سے ہے اور اس زمین پر جو بھی ہدایت یافتہ جماعتیں یا گمراہ اور خطا کارگر وہ پائے جاتے ہیں وہ سب عالمین میں شامل ہیں۔کبھی گمراہی ، کفر، فسق اور اعتدال کو ترک کرنے کا ” عالم بڑھ جاتا ہے، یہاں تک کہ زمین ظلم وجور سے بھر جاتی ہے اور لوگ خدائے ذوالجلال کے راستوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔نہ وہ عبودیت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں اور نہ ربوبیت کا حق ادا کرتے ہیں۔زمانہ ایک تاریک رات کی طرح ہو جاتا ہے اور دین اس مصیبت کے نیچے روندا جاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ ایک اور عالم“ لے آتا ہے تب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جاتی ہے اور ایک نئی تقدیر آسمان سے نازل ہوتی ہے اور لوگوں کو عارف ( شناسا ) دل اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لئے ناطق (گویا) زبانیں عطا ہوتی ہیں۔پس وہ اپنے نفوس کو سورة الروم آیت ۴۲