سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 166 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 166

سبیل الرشاد جلد دوم 166 روپے سے زیادہ اجرت دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔اگر چار روپے سے اس مزدور کے سارے حقوق ادا ہو جائیں تب تو ٹھیک ہے وہ کارخانہ دار باقی روپے اپنے پاس رکھ لے لیکن اگر اس رقم سے اس مزدور کے حقوق ادا نہیں ہوتے ، اگر اس کا پیٹ اس سے نہیں بھرتا ، اگر اس کا تن نہیں ڈھانپا جا سکتا، اگر بیماری کے وقت اس کا ٹھیک طور پر علاج نہیں ہوسکتا ، اگر اس کے بچوں کی صحیح پرورش اور تعلیم کا صحیح انتظام نہیں ہو سکتا تو پھر اس کا حق مارا جا رہا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کا رخانہ دار کو جا کر سمجھائیں کہ مزدور کی جو اجرت ہے وہ اسے پوری پوری ملنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صفت مالکیت کے مظہر ہونے کے نتیجہ میں جو نعمت ہمیں ملی ہے وہ ہمیں دکھانی چاہئے۔اب میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں۔جو کچھ میں آپ سے کہنا چاہتا تھا وہ مختصراً میں نے کہہ دیا ہے۔اب بہت دیر ہو گئی ہے اس لئے میں تقریر کو زیادہ لمبا نہیں کرنا چاہتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عربی زبان میں ہمیں سمجھانے کے لئے ایک عجیب سبق دیا ہے اور ہماری سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں اسی عربی عبارت کا ترجمہ چھپ چکا ہے۔اس عبارت میں وہ تمام مطالبات اور ذمہ داریاں بیان کر دی گئی ہیں جو روحانی طور پر جماعت احمدیہ پر عائد ہوتی ہیں میں وہ عبارت آپ کو پڑھ کر سنا دیتا ہوں۔میں اس عبارت کا خلاصہ پہلے بیان کر دیتا ہوں تا آپ اس بات کو پوری طرح سمجھ سکیں کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے۔تمام عالمین کا وہ رب ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نیکیوں کا بھی رب ہے کیونکہ نیکی بھی عالم سے تعلق رکھتی ہے اور بدیوں کا بھی وہ ربّ ہے۔کبھی اس کا جلوہ ایک رنگ میں نظر آتا ہے اور کبھی دوسرے رنگ میں۔دنیا میں بدی ہوتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی ربوبیت جاری رہتی ہے۔آخر اللہ تعالیٰ نے ابو جہل کی بھی تو ربوبیت کی ہے جب تک اس کی اجل مقدر نہیں آئی اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی ربوبیت سے باہر تو نہیں پھینک دیا تھا۔جب تک وہ زندہ رہا نہ صرف خدا تعالیٰ نے خود اسکی ربوبیت کی اور اس کی زندگی اور اس کی بقا کے سامان کئے بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کہا کہ تم میرے مظہر اتم ہو اس لئے تم نے بھی اس کے ساتھ اسی طرح سلوک کرنا ہے جس طرح میں نے اس کے ساتھ سلوک کیا ہے۔چنانچہ فتح مکہ سے پہلے بھی آپ نے اس سے اسی رنگ میں سلوک کیا۔غرض جب بدی دنیا میں چھائی ہوئی ہوتی ہے اور نیکی چھپی ہوئی ہوتی ہے اور کہیں ظاہر ہو کر نظر نہیں آ رہی ہوتی۔اس وقت کی دنیا کا بھی اللہ رب ہے۔کیونکہ وہ بھی عالمین میں سے ایک عالم ہے گناہ، بدی ، ناپاکی ، تاریکی ، اندھیرے اور ظلمات کا عالم۔اور اللہ تعالیٰ اس عالم کا بھی رب ہے کیونکہ وہ رب العالمین ہے۔پھر ایک دوسرا دور اللہ تعالیٰ لاتا ہے اور وہ نیکی ، پاکیزگی ، محبت، پیار، اخوت، ہمدردی ، حسنِ