سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 138 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 138

سبیل الرشاد جلد دوم 138 میں فلاں آدمی ہوں۔اس کے بعد خاموشی طاری ہو گئی۔پانچ ، دس ، پندرہ ، ہیں ، پچیس منٹ گزر گئے مگر کوئی باہر نہ نکلا۔لڑکے نے باپ سے کہا آپ کا دوست بھی کیا اچھا آدمی ہے کہ باہر ہی نہیں نکلتا۔ایسے ہی دوست ہوا کرتے ہیں۔باپ نے کہا صبر کرو تمہیں ابھی پتہ لگ جاتا ہے۔چنانچہ وہ باہر نکلا ، پورا ہتھیار بند۔زرہ پہنا ہوا۔گو دلگایا ہوا۔تلوار لٹکائی ہوئی۔ہاتھ میں نیزہ پکڑا ہوا اور دوسرے ہاتھ میں تین چار تھیلیاں اشرفیوں کی پکڑی ہوئی اور باہر نکل کر کہنے لگا کہ جب میں نے تمہاری آوازی سنی اور تم نے مجھے اپنا نام بتایا تو میں نے سوچا کہ اس بے وقت آنے کا یا تو یہ مطلب ہے کہ کوئی تمہارا دشمن ہے اور تم اس سے لڑنا چاہتے ہو اور میری مدد کی تمہیں ضرورت ہے۔یا یہ مطلب ہے کہ تمہیں فوری طور پر پیسے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔اس لئے مجھے جو دیر ہوئی کہ میں نے سوچا کہ اگر تمہیں میری جان کی ضرورت ہے تو مجھے دیر نہیں کرنی چاہئے کہ پہلے تم سے جا کر واقعہ پوچھوں اور پھر آ کر ہتھیار باندھوں۔پہلے ہی میں ہتھیار باندھ کر باہر نکلتا ہوں اور اگر تمہیں پیسے کی ضرورت ہے تو یہ اشرفیوں کی تین چار تھیلیاں لایا ہوں۔یہ تم لے جاؤ۔چنانچہ باپ نے بیٹے سے کہا کہ دوست ایسے ہوتے ہیں۔یہ تو ایک انسان تھا جس کی دوستی بھی محدود اور دوستی کے نباہنے کے لئے جس کے وسائل بھی محدود، جس کی عقل بھی محدود، جس کے اخلاق بھی محدود اور بہت سے زاوئیے جن پر زنگ لگا ہوا ہوتا ہے۔ہمیں ہمارے رب نے فرمایا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں میں تمہیں دوست دیتا ہوں اور تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم اس دُنیا میں آپ کے اُسوہ حسنہ کی پیروی کرتے ہوئے اس طرح دینی و دنیوی دوستیوں کو نباہنا۔دوستیاں پیدا کرنا یہ ایک ملکہ ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ ملکہ اس لئے دیا ہے کہ ہم اس کو استعمال کریں اور پھر اس ملکہ کے نتیجہ میں جو دوستی پیدا ہوا سے اس طرح نبھایا جائے جس طرح ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے دوستی کو نبھایا تھا۔ایک طرف ایک شخص اتنا عظیم آقا اور سردار اور دوسری طرف اتنا محسن اور رحم اور کرم کرنے والا۔اور تیسری طرف اتنا اچھا دوست ، اتنا اچھا دوست کہ کسی نے ایسا اچھا دوست کبھی دیکھا ہی نہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا کہ میں تمہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا دوست دیتا ہوں۔ایک تو اس کی دوستی کو نباہنا۔تم پر دوستی نبھانا فرض ہو جائے گا اور دوسرے اپنی دوستیوں کو اس رنگ میں نباہنا جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلاموں سے دوستی نبھائی تھی۔غلام ہی تھے نا ؟ قُلْ لِعِبَادِی میں سب کو غلام بنا دیا تھا اور اس غلامی سے نجات کو وابستہ کر دیا اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک بہترین دوست کے پیرا یہ ہی میں نظر آتے ہیں۔