سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 137 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 137

137 سبیل الرشاد جلد دوم تو وہ قوم ہے جن سے اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے پھر اس کے دل میں نور ایمان پیدا ہو گا ، پھر اس کے دل میں بشاشت ایمانی پیدا ہوگی۔پھر وہ بشاشت کے ساتھ علی وجہ البصیرت اس یقین پر کہ یہی ایک سچا اور حقیقی اسلام ہے ، آپ کے ساتھ شامل ہو جائے گا اور جب وہ اس طرح علی وجہ البصیرت احمدیت کو قبول کرے گا تو پھر اگر ساری دُنیا اس کی مخالفت شروع کر دے وہ اس کی پروا نہیں کرے گا وہ احمدیت کو نہیں چھوڑے گا کیونکہ اس کا وہی حال ہو گا جو حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف شہید کا ہوا تھا کہ بادشاہ کہہ رہا تھا کہ میں آپ کو اور بھی زیادہ عزت دوں گا۔آپ احمدیت کو چھوڑ دیں لیکن انہوں نے کہا۔مجھے ایک نور مل گیا ہے مجھے اللہ تعالیٰ کی محبت مل گئی ہے۔میں تمہاری اس دنیا کو کیا کروں۔میری تو اگر ایک ہزار جان بھی ہوتی تو قربان کر دیتا۔حدیثوں میں شہید کا یہی مقام آتا ہے۔پس جب انسان سمجھ کر اور یقین کے ساتھ کسی صداقت کو قبول کرتا ہے تو پھر وہ ثابت قدم رہتا ہے۔پس یہ یقین اور ایمان کی یہ پختگی ہماری احمدیت کی نسل میں پیدا ہونی چاہئے۔ویسے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم میں یہ صدق وثبات پایا جاتا ہے۔اس میں شک نہیں لیکن جن کے اندر یہ خوبی نہیں پائی جاتی ان کی ہمیں فکر کرنی چاہئے۔غرض دوسری ذمہ داری حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوہ حسنہ کے نتیجہ میں ہم پر یہ عائد ہوتی ہے کہ آپ ایسے محسن تھے کہ خدمت گزاری میں کوئی شخص آپ کا مقابلہ نہ کر سکا۔آپ کے دل میں ہر وقت یہ تڑپ رہتی تھی کہ کسی شخص کو بھی دکھیا نہ دیکھوں۔کسی شخص کو دینی و دنیوی لحاظ سے آگ میں پڑا ہوا نہ پاؤں۔جہاں تک ممکن ہو سکے ان کے دکھ کا علاج اور درد کا مداوا کروں۔جہاں تک ہو سکے ان کے لئے خیر و برکت اور بھلائی کے سامان پیدا کروں۔پس یہ وہ اسوہ حسنہ ہے جس کے نتیجہ میں بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ بھولنی نہیں چاہئے۔تیسری چیز آپ کی زندگی میں ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ آپ سے اچھا دوست انسان نے کبھی نہیں دیکھا۔اس میں شک نہیں کہ دوستی بھی بڑی نعمت ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ایک یہ قوت بھی رکھی ہے کہ وہ اچھا دوست ثابت ہو سکتا ہے۔عربی لٹریچر میں ایک حکایت بیان ہوئی کہ ایک شخص اپنے بچے سے کہا کرتا ہے کہ جو دوست تم بنا رہے ہو یہ تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔یہ مطلب پرست ہیں۔اور تمہیں دھوکا دیں گے۔روز ہی باپ اس کو یہ نصیحت کرتا رہتا تھا آخر ایک دن تنگ آ کر بیٹے نے باپ سے کہا کہ پھر آپ مجھے بتائیں کہ اچھا دوست کون اور کس قسم کا ہوتا ہے۔باپ نے کہا کہ اچھا میں تمہیں بتا تا ہوں کہ کون دوست اچھا ہوتا ہے۔چنانچہ ایک دن باپ اپنے بیٹے کو لے کر رات کے بارہ بجے ایک مکان پر پہنچا اور وہاں جا کر دروازے پر دستک دی لیکن اندر سے آواز آئی کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا