سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 131 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 131

سبیل الرشاد جلد دوم بیان میں کہ بادشاہ ہونے کے باوجود آپ بنی نوع انسان کے محسن اور خدمت گذار تھے فرمایا: خواجه و مر عاجزاں را بندہ بادشاہ , بیکساں چا کرے آں ترتمہا کہ خلق از وے بدید کس ندیده در جہاں از مادرے 131 کہ بادشاہ ہے لیکن اپنی زندگی میں عاجز لوگوں کا مسکین لوگوں کا بندہ اور خادم نظر آتا ہے۔بادشاہ ہے لیکن جن کا کوئی سہارا نہیں اور جو بے کس ہیں ان کی خدمت میں لگا ہوا ہے۔اس کے احسان اور اس کی محبت کا یہ عالم ہے کہ بنی نوع انسان نے اس کی محبت کے جو مظاہر دیکھے کسی بچے نے اپنی ماں سے بھی ایسی شفقت اور محبت حاصل نہیں کی۔بادشاہ ہونے کے باوجو دلوگوں سے ایک ماں سے زیادہ محبت کرنے والا ہے۔بادشاہ بھی لیکن کوئی معمولی بادشاہ نہیں بلکہ ایسا بادشاہ جو خدائے عرش کے دائیں عظمت اور جلال کے تخت پر بیٹھا ہوا ہے یعنی ایسی بادشاہت کا مالک ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے دائیں جلال کے تخت پر قائم ہوئی ہے۔اس بادشاہت کا مالک ہے لیکن حال یہ ہے کہ بے کس اور عاجز انسان کے ساتھ ایک خدمت گزارا اور ایک محسن کا سلوک ہے۔نسائی میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن اوفی بیان کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت تھی کہ بیوہ اور مسکین کے ساتھ ان کا کام کرنے چل کھڑے ہوتے اور ان کے کام کر دینے میں آپ کوئی عار محسوس نہ کرتے۔اسی طرح ابوداؤد میں ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک عورت تھی جس کے دماغ میں کچھ فتو ر تھا۔آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ محم محمد تم سے کچھ کام ہے فرمایا جہاں کہو چل سکتا ہوں۔وہ آپ کو ایک کو چہ میں لے گئی اور وہیں بیٹھ گئی اور آپ بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور جو کام تھا انجام دے دیا۔پھر بیہقی میں آتا ہے کہ جبش سے جو ایک دفعہ مہمان آئے تھے صحابہ نے چاہا کہ وہ ان کی خدمت گذاری کریں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روک دیا اور فرمایا کہ انہوں نے میرے دوستوں کی خدمت کی ہے اس لئے میں خود ان کی خدمت گزاری کا فرض انجام دوں گا - براہین احمدیہ حصہ اول دیباچه روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 18 بحوالہ سیرت النبی جلد دوم صفحه ۱۳۴۳ ز شبلی مرحوم ابوداؤد کتاب الادب بحوالہ سیرت النبی جلد دوم از شبلی مرحوم شرح شفائے قاضی عیاض بحوالہ بیہقی وسیرت النبی جلد دوم صفحه ۱۳۴۲ ز شبیلی مرحوم