سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 129
سبیل الرشاد جلد دوم 129 پھر فرمایا کہ یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے خیر و برکت کا بھوکا ہے اور اس طرح ہر وہ بھلائی جو انسان کو پہنچ سکتی تھی وہ اسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اُسے پہنچا دی۔تب ہی تو یہ اعلان کیا گیا: اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ جذبات اور آپ کے یہ اخلاق اور آپ کی یہ قوتیں اور استعدادیں تھیں جو پہلے قرآن کریم کی متحمل ہوئیں اور پھر آپ نے قرآن کریم کو انتہا ء تک پہنچایا۔ہر قسم کی بھلائی اور نیکی اور خیر و برکت کا سامان اس میں رکھ دیا گیا۔کوئی بھی خیر و برکت و بھلائی ایسی نہیں جو اس میں نہ ہو اور اسے کسی دوسری جگہ تلاش کرنے کی ضرورت پڑے مثلاً اقتصادی معاملات میں بظاہر وہ دین سے تعلق نہیں رکھتے۔لیکن حقیقتا دین ہی سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ خود ہمارے اس محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "كَادَ الفَقْرُاَنُ يَكُونَ كُفراً غربت جو ہے اس کے نتیجہ میں بسا اوقات اللہ تعالیٰ سے دوری کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔شروع میں دل میں کدورت پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے شکوہ پیدا ہوتا ہے۔حکمتیں معلوم نہیں ہوتیں۔جو سامان ہیں ان کا علم نہیں ہوتا۔بعض دفعہ جنہوں نے کوشش کرنی ہوتی ہے وہ غفلت برت رہے ہوتے ہیں اور انسان کے دل میں اپنے رب کے لئے بدظنی پیدا ہو جاتی ہے۔اب اسلام کی اقتصادی تعلیم پر میں خطبات دے رہا ہوں۔اس سلسلہ میں پچھلے چند ہفتوں میں بہت سے سمجھ دار پڑھے لکھے غیر احمدی بھائیوں سے باتیں ہوئی ہیں۔میں جب ان کو بتا تا ہوں کہ اسلام نے اس طرح انسان کی عزت کو قائم کیا ہے اور اس کے حقوق کو قائم اور اس کی ضرورتوں کو پورا کیا ہے۔پہلے انسانی حقوق کو قائم کیا اور پھر اس کی ضرورتوں کو پورا کیا اور دنیا کا کوئی انسانی نظام اس قسم کا نہیں ہے جس قسم کا یہ اسلامی اقتصادی نظام ہے۔چنا نچہ بلا استثناء سب کو مانا پڑتا ہے کہ یہ درست ہے لیکن ایک خلش ہے جو دراصل اپنی کمزوری کا نتیجہ ہے وہ باقی رہ جاتی ہے اور کبھی بلا استثناء مجھ سے یہی سوال کرتے ہیں۔ٹھیک ہے اتنا حسین نظام ہمیں اور کہیں نہیں ملتا کہ جس نے کوئی حق بھی نہ چھوڑا ہو جسے قائم نہ کیا ہو اور اس کے پورا کرنے کا انتظام نہ کیا ہو۔لیکن وہ کہتے ہیں کہ آپ ہمیں بتائیں کہ اس کو کون چلائے گا۔پھر مجھے ان کو یہ سمجھانا پڑتا ہے کہ آسمان سے فرشتوں نے آکر یہ کام نہیں کرنا۔میں نے اور آپ نے یہ کام کرنا ہے اور پہلی کمزوری تو یہ ہے کہ سورة المائدہ آیت ۴ الجامع الصغیر صفحه ۷۴