سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 93 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 93

93 سبیل الرشاد جلد دوم خلاف اباء اور حصہ اور غضب رکھتی ہیں وہ مجھتی ہیں کہ پہلی نسل ہم سے بچ گئی اور دوسری بھی بچ گئی اب تیسری نسل پر حملہ آور ہو کر اس مقصد میں الہی تحریک کو نا کام کرو جس مقصد کے لئے اسے کھڑا کیا گیا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے بعض گھروں میں بدعات اور رسوم رائج ہورہی ہیں۔مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ میری ڈاک میں بعض دفعہ اس قسم کا سوال بھی ہوتا ہے کہ تعویذ اور گنڈے کرنے جائز ہیں یا نہیں ؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تربیت میں ایک حد تک کمی آگئی ہے ان گھرانوں میں۔کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہمارا سارا تو کل اور ہمارا سارا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے ، وہی ہمارا سہارا ہے اور اس نے ہمیں ہماری ہر ضرورت اور کمزوری کے وقت سہارا دینے کے لئے جن راہوں کو جن طریقوں کو تجویز کیا ہے وہی طریقے صحیح اور درست ہیں اور ان سے ادھر اُدھر ہونا خدا کے غضب کا موجب بن جاتا ہے۔احکامِ شریعت کی پوری پابندی اور سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع ہمارے لئے ضروری ہے۔ہماری بیویوں کے لئے ضروری ہے ، ہمارے بچوں کے لئے ضروری ہے۔ہمارے ماحول کے لئے ضروری ہے اور یہ ذمہ داری زیادہ تر جماعت کے اس گروہ پر پڑتی ہے جو عمر کے لحاظ سے انصار کہلاتے ہیں۔جماعتی نظام میں بھی انہیں کا اثر اور نفوذ زیادہ ہوتا ہے۔بڑی عمر کے ہوتے ہیں۔زیادہ تجربہ والے ہوتے ہیں۔تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔یہ تو صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دوسرے کی گمراہی تمہیں تکلیف نہیں پہنچا سکتی اگر آپ ہدایت پا جائیں۔لیکن اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ نے ان تمام احکام کی اللہ کے فضل اور اس کی توفیق سے بجا آوری کی طاقت اور توفیق حاصل کی اور ان احکام میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کے بچوں کی اور آپ کے ماحول کی ذمہ داری آپ پر ڈالی گئی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آپ میں سے ہر ایک کسی نہ کسی رنگ میں راعی کی حیثیت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ تم سے جواب طلبی کرے گا کہ اس ذمہ داری کو تم نے کس رنگ میں اور کس طور پر نبھایا۔تو جو شخص بچوں کی تربیت سے غافل ہے یا جو شخص اپنی تربیت سے غافل ہے اور اس قسم کی باتیں گھر میں کرنے کا عادی ہے جس کے نتیجہ میں بچوں کے دلوں سے خدا اور اس کے رسول کی محبت آہستہ آہستہ مٹتی چلی جائے اور نظام کے خلاف باتیں کرنے کی اسے عادت پڑ جائے تو خود کو بھی خراب کیا اور اگلی نسل کو بھی خراب کیا۔خدا کے سامنے جب آپ جائیں گے اور وہ آپ سے پوچھے گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق اور میرے حکم کے ماتحت تم نے اس ذمہ داری کو کیسے نبھایا تو کیا جواب دیں گے آپ؟ پس تربیت کی طرف خاص توجہ دیں اور اپنے ماحول کو نیک اور پاک اور ہر قسم کی گندگی اور ہر قسم کی ناپاکی سے صاف بنانے کی کوشش کریں۔جب تک آپ کا ماحول اور آپ کا گھر پاک نہیں ہو گا، آپ کا لباس تقوی گندگی کی چھینٹوں