سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 73
۷۳ بڑھتی جائے گی ، ترقی کی یہ رفتار بھی بڑھتی جائے گی اور اگلی طاقت پچھلی سے زیادہ ہوگی۔پس دوست اپنی ذمہ واری کو سمجھیں اور کوشش کریں کہ کم سے کم جن اضلاع میں زیادہ جماعتیں ہیں، (ایسے اضلاع پنجاب میں ۱۶۔۷ اہوں گے ) ان کی ہر تحصیل یا اس علاقہ کے مرکز احمدیت میں جلسہ کیا جائے اور ایسی سکیم بنائی جائے کہ ہر جماعت تبلیغ میں حصہ لے سکے اور ایسی تدابیر لوگوں کو بتائی جائیں کہ وہ کس طرح اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو تبلیغ کر سکتے ہیں۔میں تحریک جدید کے نوجوانوں کو بھی اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔وہ اگر چہ خود تو فارغ نہیں ہیں اور تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔مگر اس خیال کو دوسروں میں زندہ رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔وہ اپنے اپنے وطن میں خط و کتابت کے ذریعہ دوستوں اور رشتہ داروں کو تحریک کر سکتے ہیں کہ جلسے منعقد کریں اور تبلیغ میں پورے جوش سے حصہ لیں۔خدام الاحمدیہ، مبلغوں پر اور تبلیغ کے دفتر پر اس کام کے لئے زور دے سکتے ہیں اور نوجوانوں کے اندر یہ روح پیدا کر سکتے ہیں کہ وہ بیداری کی زندگی اختیار کریں اور اگر وہ ایسا کریں تو اس کام کے لئے رستہ تیار کرنے والے ہوں گے جس پر آئندہ زندگی میں چلنے والے ہیں۔( خطبہ جمعہ فرموده ۵۔جنوری ۱۹۴۳ء۔بحوالہ الفضل ۲۱۔فروری ۱۹۴۵ء)