سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 63

۶۳ سلسلہ کی روحانی بقاء ذیلی تنظیموں کے قیام کا ایک مقصد (اقتباس از تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1942ء) اس کے بعد میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سلسلہ کے روحانی بقاء کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کی تحریکات جاری کی ہوئی ہیں اور یہ تینوں نہایت ضروری ہیں۔عورتوں میں کل جو تقریر میں نے کی ہے، اس میں ان کو نصیحت کی ہے کہ وہ بجنات کی ممبر بنانے میں مستعدی سے کام لیں اور آج آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ ان تحریکات کو معمولی نہ سمجھیں۔نہ اس زمانہ میں ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ یہ بہت ضروری ہیں۔پرانے زمانہ میں اور بات تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں آپ کی ٹرینینگ سے ہزاروں استاد پیدا ہو گئے تھے۔جو خود بخود دوسروں کو دین سیکھاتے تھے اور دوسرے شوق سے پیتھے۔مگر اب حالات ایسے ہیں کہ جب تک دودو تین تین آدمیوں کی علیحدہ علیحدہ نگرانی کا انتظام نہ کیا جائے کام نہیں ہو سکتا۔ہمیں اپنے اندر ایسی خوبیاں پیدا کرنی چاہیں کہ دوسرے ان کا اقرار کرنے پر مجبور ہوں اور پھر تعداد بھی بڑھانی چاہئے۔اگر گلاب کا ایک ہی پھول ہو اور وہ دوسرا پیدا نہ کر سکے تو اس کی خوبصورتی سے دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔فتح تو آئندہ زمانہ میں ہونی ہے اور معلوم نہیں کب ہو۔لیکن ہمیں کم سے کم اتنا تو اطمینان ہو جانا چاہئے کہ ہم نے اپنے آپ کو ایسی خوبصورتی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے کہ دنیا احمدیت کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔احمدیت کو دنیا میں پھیلا دینا ہمارے اختیار کی بات نہیں لیکن ہم اپنی زندگیوں کا نقشہ ایسا خوبصورت بناسکتے ہیں کہ دنیا کے لوگ بظاہر اس کا اقرار کریں یا نہ کریں ،مگر ان کے دل احمدیت کی خوبی کے معترف ہو جائیں اور اس کے لئے جماعت کے سب طبقات کی تنظیم نہایت ضروری ہے۔مجھے افسوس