سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 25

۲۵ کرنا ہے۔جو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے ہم پر عائد ہیں اور خدا اور اس کے رسول نے جو احکام دیئے ہیں۔ان کے نفاذ اور اجراء میں حصہ لینا صرف میرا فرض نہیں بلکہ ہر شخص کا فرض ہے۔آخر میں نے ( نعوذ باللہ ) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تھا۔نہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو (نعوذ باللہ ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری مظہر بنا کر بھیجا۔نہ صحابہ کو میں نے بنایا اور نہ تم کو میں نے بنایا۔یہ خدا کا کام ہے جو اس نے کیا۔میرا کام تو صرف ایک مزدور کا سا ہے اور میرا فرض ہے کہ خدا نے جس فقرہ کو جہاں رکھا ہے وہاں اس کو رکھ دوں۔پس میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔بلکہ میں وہی کچھ کہتا ہوں جو خدا نے کہا۔اگر کوئی شخص اسے تسلیم نہیں کرتا تو اسے ثابت کرنا چاہئے کہ وہ بات خدا نے نہیں کہی ورنہ وہ میرا انکار نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ کا انکار کرتا ہے۔(خطبہ جمعہ فرموده ۲۶ / جولائی ۱۹۴۰ء۔بحوالہ الفضل یکم اگست ۱۹۴۰ء)