سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 200
۲۰۰ قادیان آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ اس کی عمر ۱۱۸ سال کی ہے اور وہ لاہور سے پیدل چل کر آیا ہے اور قادیان لاہور سے تقریبا ۷۰ میل دور تھا۔پس اگر خدا تعالیٰ طاقت دے اور وہ بڑی قدرتوں کا مالک ہے تو ۱۱۸ سال کی عمر کا آدمی بھی 2 میل چل لیتا ہے۔میرا تو ابھی سترھواں سال شروع ہوا ہے اور میں اس کے شروع میں ہی اتنا کمزور ہو گیا ہوں کہ اس کی کوئی حد نہیں۔جب میں پڑھتا ہوں یا سنتا ہوں کہ میرے زمانہ میں اسلام دنیا کے کناروں تک پہنچ گیا ہے، تو میں شرمندہ ہو کر خدا تعالیٰ سے کہتا ہوں کہ یہ محض ان کی حسن ظنی ہے ورنہ حق یہ ہے کہ میں وہ فرض پورا نہیں کر سکا جو تو نے میرے سپرد کیا تھا۔اگر میں وہ فرض پورا کر لیتا تو اب تک اسلام دنیا کے کناروں تک پھیل چکا ہوتا۔یہ میری غفلت اور کوتاہیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ ابھی دنیا کے صرف چند ملکوں میں ہی تبلیغ ہوئی ہے۔میں ۱۹۱۴ء میں خلیفہ ہوا تھا لیکن تحریک جدید جس کے ماتحت مبلغین باہر جاتے ہیں۔اس کی ابتداء ۱۹۳۴ء میں ہوئی۔گویا میں نے ۲۰ سال غفلت میں گزار دیئے۔یعنی ۲۰ سال بعد جا کر کہیں مجھے ہوش آئی کہ ابھی بہت کام باقی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس عرصہ میں یورپ اور دیگر ممالک میں مساجد تعمیر کی گئیں ، جماعتیں قائم ہوئیں اور بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔لیکن اگر یہ تحریک ۲۰ سال قبل شروع کی جاتی تو شاید جماعت کی تعداد اور بھی بڑھ جاتی۔بہر حال میں جماعت سے ان کی اس تکلیف کی وجہ سے ہمدردی کرتے ہوئے جزاکم اللہ کہتا ہوں۔ایک خدمت ایسی ہوتی ہے کہ باتیں کرنے یا سننے سے اس کا کسی قدر بدلہ خدمت کرنے والے کومل جاتا ہے۔لیکن آپ کو ایسی خدمت کی توفیق ملی ہے جو بغیر معاوضہ کے تھی۔میں ابھی تک اس کا کوئی معاوضہ نہیں دے سکا۔شاید اللہ تعالیٰ فضل کرے اور آپ کو اس خدمت کا بدلہ دے دے۔پس میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کو اس خدمت کا بدلہ دے اور ادھر مجھے صحت دے اور اسلام کی خدمت کی توفیق دے کہ میں اور آپ سب اسلام کی ترقی اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔پھر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں قادیان بھی دے۔ہم اپنی زندگی میں قادیان جائیں اور ہم میں سے جو لوگ مستحق ہیں ان کو اللہ تعالیٰ بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قرب میں جگہ دے۔خدا تعالیٰ کا قرب تو ہمیں ہر جگہ نصیب ہے أَيْنَمَا تُوَلُّوْافَتَمَّ وَجُهُ اللَّهِ (سورة البقرة آیت ۱۱۶)