سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 199

۱۹۹ آب و ہوا میں رطوبت زیادہ تھی، اس لئے وہاں مجھ پر نقرس کا دوبارہ حملہ ہوا۔جو برابر ریل میں بھی کراچی پہنچنے تک جاری رہا۔یہاں پہنچ کر با وجود اس کے کہ جماعت کے ڈاکٹروں اور شہر کے دوسرے چوٹی کے ڈاکٹروں سے علاج کرایا گیا، ابھی تک کوئی افاقہ نہیں ہوا اور اس وقت تک برابر اتنا درد ہے کہ میں نہ تو رات کو سو سکتا ہوں نہ دن کو آرام سے لیٹ سکتا ہوں۔اس لئے میں مجبور ہوں کہ آپ سے مل نہیں سکا اور اس طرح میں نے آپ کے دل کو رنج پہنچایا ہے۔امید ہے کہ آپ لوگ اس کا ازالہ دعا سے کریں گے۔کیونکہ ہمارا اصل معالج خدا تعالیٰ ہی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں: وَإِذَ مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (سورة الشعراء آیت (۸) کہ جب میں اپنی بیوقوفیوں کی وجہ سے بیمار ہوتا ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل سے شفا دیتا ہے۔تو حقیقت یہی ہے کہ بیماریاں ہماری اپنی بیوقوفی سے آتی ہیں لیکن شفا خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے۔ورنہ ڈاکٹر دیکھتے رہ جاتے ہیں اور انہیں پتہ نہیں لگتا کہ کیا بیماری ہے۔مجھے بھی کل یہاں کے ایک چوٹی کے ڈاکٹر نے ، جن کی یورپ میں بھی شہرت ہے، کہا ہم آپ کی مرض کا خاطر خواہ علاج نہیں کر سکتے۔کیونکہ عمر کے زیادہ ہونے کی وجہ سے آپ کا جسم بیماری کا مقابلہ نہیں کرتا۔حالانکہ عمر کی زیادتی محض انسانی کم عقلی کا بہانہ ہے۔ورنہ ایک دفعہ گجرات کا ایک شخص میری بیعت کرنے کے لئے آیا تو اس نے مجھے بتایا کہ اس وقت میری عمر ۱۱۸ سال کی ہے اور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں جوان تھا۔تو انسان اپنی کوتا ہی کی وجہ سے بہانے بناتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ حکیموں اور ڈاکٹروں کو عقل دے تو انہیں علاج سوجھ جاتا ہے اور اگر خدا تعالیٰ انہیں عقل نہ دے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا کام تو محض قارورہ سونگھنا ہے۔ورنہ علاج تو اللہ تعالیٰ ہی سمجھا تا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ سرگودہا کا ایک رئیس میرے پاس آیا۔وہ اپنے آپ کو بہت بڑا رئیس سمجھتا تھا۔میں نے اسے بیماری کا معمولی سا علاج بتایا ، تو اس نے برا منایا اور سمجھا کہ گویا میں نے اس کی ہتک کی ہے۔پھر وہ غصہ سے کہنے لگا کہ آخر آپ لوگ پیشاب ہی سونگھنے والے ہیں۔تو حقیقت یہی ہے کہ طبیب حقیقی خدا تعالیٰ ہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ علم طب محض ظنی ہے اور طبیب کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ مرض کیا ہے۔وہ محض تک مارتا ہے جو بعض اوقات صحیح بھی ہو جاتی ہے۔میرا علاج وہی ہو رہا ہے جو جوانی کی عمر میں ہوتا تھا اور اس سے فائدہ ہو جاتا تھا، لیکن اب اس علاج سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔کل ہی مجھ سے ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ یہ مر کا تقاضا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے، ایک شخص بیعت کے لئے میرے پاس