سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 11
11 انہوں نے ان باتوں کی کوئی پروانہیں کی تھی۔پھر اگر ہم بھی صحابہ کے نقش قدم پر ہیں تو ان باتوں سے ڈرنے اور گھبرانے کے معنے کیا ہوئے۔ہمارا مذ ہب یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کل اور آپ کے تابع تھے۔ان کی تمام عزت اور ان کا تمام رتبہ اسی میں تھا کہ خدا نے ان کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عکس بنا دیا تھا اور وہ اسی کام کے لئے مبعوث کئے گئے تھے۔جس کام کے لئے محمدصلی اللہ علیہ وسلم آج سے ساڑھے تیرہ سوسال پہلے معبوث ہوئے۔بلکہ قرآنی اصطلاح میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ زندہ ہو کر تشریف لے آئے اور یہ ایک بہت بڑی عزت کی بات ہے۔مگر ساتھ ہی بہت بڑی ذمہ داری بھی ہم پر عائد ہوتی ہے۔کیونکہ اگر محمدصلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ زندہ ہو کر تشریف لے آئے ہیں، تو صحابہ کو بھی تو دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آجانا چاہئیے۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ کام کئے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئے تھے تو ہمارے کام وہ ہیں جو صحابہ نے کئے۔صحابہ کو ہر سال چار چار، پانچ پانچ لڑائیاں لڑنی پڑتی تھیں اور بعض لڑائیوں میں مہینہ ڈیڑھ مہینہ صرف ہو جاتا تھا۔گویا بعض سالوں میں انہیں آٹھ آٹھ ، نو نو مہینے گھروں سے باہر رہنا پڑا ہے۔پھر انہیں کوئی گزارہ نہیں ملتا تھا۔دال روٹی اور نمک کے لئے بھی پیسہ تک نہیں ملتا تھا۔بیوی کا کام تھا کہ وہ بعد میں اپنی روزی آپ کمائے اور جانے والوں کا فرض تھا کہ وہ اپنے خرچ پر جائیں۔حتی کہ لڑائی پر جانے والوں کو راشن تک نہیں ملتا تھا بلکہ ہر شخص کا فرض ہوتا تھا کہ وہ اپنی روٹی کا آپ انتظام کرے۔اس کے مقابلہ میں، میں دیکھتا ہوں۔ہماری جماعت میں ان باتوں کا احساس ہی نہیں یہ تو میں نہیں کہتا کہ سب میں احساس نہیں۔مگر بہر حال جن کے دلوں میں یہ احساس ہے، ان کے مقابلہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن کے دلوں میں کوئی احساس نہیں اور اس وجہ سے ہم محض اس بات سے تسلی نہیں پاسکتے کہ جماعت کے ایک حصہ میں ان باتوں کا احساس ہے۔جب تک جماعت کا ایک حصہ ہمیں ایسا بھی نظر آتا ہے۔جو اس احساس سے بالکل خالی ہے اور دعویٰ یہ کرتا ہے کہ اسے صحابہ کی مماثلت حاصل ہے۔خواہ وہ کتنا بھی تھوڑا ہے۔جب تک اس کے اس غیر معقول رویہ کی اصلاح نہ کی جائے گی ، اس وقت تک ہم چین اور آرام سے نہیں بیٹھ سکتے۔میں نے سب نو جوانوں کی اصلاح اور دوسروں کو مفید دینی کاموں میں لگانے کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ