سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 10
تو کہتا ہے، سبحان اللہ ! حضرت صاحب تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کل تھے۔پس جو حال صحابہ کا وہی حال ہمارا۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ کوئی پور بیا مر گیا تھا۔پورپہیئے عام طور پر دھوبی ہوتے ہیں۔اس کی عورت نے باقی دھوبیوں کو اطلاع دی اور سب اکٹھے ہو گئے۔رسم و رواج کے مطابق عورت نے ان سب کے سامنے رونا پیٹنا شروع کر دیا۔ان میں طریق یہ ہے کہ جب کوئی مرجاتا ہے تو عورتیں اور لڑکیاں اکٹھی ہو کر پیٹتی ہیں اور مرد انہیں تسلی دیتے ہیں۔اس پوریئے کی عورت نے بھی رونا پیٹنا شروع کر دیا اور روتے روتے اس قسم کی باتیں شروع کیں کہ ارے اس نے فلاں کی جگہ سے اتنا روپیہ لیتا تھا۔اسے اب کون وصول کرے گا۔ایک پور بیا آگے بڑھ کر کہنے لگا۔اری ہم ری ہم۔وہ کہنے لگی ارے اس نے ادھیارے پر گائے دی ہوئی تھی۔اب اسے کون لائیگا۔وہی پور بیا پھر بولا اور کہنے لگا اری ہم ری ہم۔پھر وہ روئی اور کہنے لگی ارے اس کی تین ماہ کی تنخواہ مالک کے ذمہ تھی اب وہ کون وصول کرے گا۔وہ پور بیا پھر آگے بڑھا اور کہنے لگا اری ہم ری ہم۔پھر وہ عورت رو کر کہنے لگی ارے اس نے فلاں کا دوسور و پیہ قرض دینا تھا اب وہ قرض کون دے گا۔اس پر وہ پور بیا باقی قوم کی طرف مخاطب ہو کر کہنے لگا۔ارے بھئی میں ہی بولتا جاؤں گا یا برادری میں سے کوئی اور بھی بولے گا۔ان کمزور احمدیوں کی بھی یہی حالت ہے۔جہاں جنت کی نعماء اور مدارج کا سوال آتا ہے۔وہاں تو کہتے ہیں ارے ہم رے ہم۔مگر جب یہ کہا جاتا ہے کہ صحابہ نے بھی قربانیاں کی تھیں تم بھی قربانیاں کرو تو کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہم ہی بولتے جائیں یا برادری میں سے کوئی اور بھی بولے گا۔یہ حالت بالکل غیر معقول ہے اور اسے کسی صورت میں برادشت نہیں کیا جاسکتا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مستقل نبی تھے تو بے شک کسی نئی شریعت نئے نظام اور نئے قانون کی ضرورت ہو سکتی ہے لیکن اگر وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تابع اور امتی نبی ہیں۔تو پھر جومحمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حال تھا۔وہی مسیح موعود کا حال ہے اور جو ان کے صحابہ کا حال تھا وہی ہمارا حال ہے۔مگر یہ کمزور لوگ جب اپنی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں تو اس وقت تو قرآن کریم کی آیات اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات پڑھ پڑھ کر اپنے سر ہلاتے چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں۔ہمارے لئے یہ انعام بھی ہے اور ہمارے لئے وہ انعام بھی ہے۔مگر جب کام کا سوال آتا ہے تو کوئی یہ کہنے لگ جاتا ہے کہ اگر میں کام پر گیا تو میری دوکان خراب ہو جائے گی اور کوئی یہ عذر کرنے لگ جاتا ہے کہ میں اپنے بیوی بچوں کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔حالانکہ صحابہ کی بھی دوکا نہیں تھیں اور صحابہ کے بھی بیوی بچے تھے۔مگر