سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 146
۱۴۶ کسی سے قسم لینی ہو تو چیف کھڑا ہو جاتا ہے اور اپنا سٹول جس پر وہ بیٹھتا ہے سامنے رکھ دیتا ہے اور مدعی یا اس کا نمائندہ اس پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے چیف کے اس سٹول کی قسم کہ میں نے فلاں بات کی ہے یا نہیں کی اور اس کی بات مان لی جاتی ہے۔ہمارے احمدیوں نے چیف کے سٹول پر ہاتھ رکھ کر اس کی قسم کھانے سے انکار کرنا شروع کر دیا اور کہا یہ شرک ہے۔ہم تو خدا تعالیٰ کی قسم کھائیں گے لیکن چیف نے کہا میں تو خدا تعالیٰ کی قسم نہیں مانتا۔ہمارے باپ دادا سے یہ رواج چلا آ رہا ہے کہ اس سٹول کی قسم کھائی جاتی ہے، اس لئے میں اس سٹول کی قسم لوں گا لیکن احمدیوں نے ایسی قسم کھانے سے انکار کر دیا چنانچہ وہاں ایک کے بعد دوسرے احمدی کو سزاملنی شروع ہوئی لیکن احمدی سٹول کی قسم کھانے سے برابر انکار کرتے گئے۔آخر گورنمنٹ ڈرگئی اور اس نے کہا آخر تم کتنے احمدیوں کو جیل میں بند کرو گے۔احمدیت تو اس علاقہ میں پھیل رہی ہے اور اس کے ماننے والوں کی تعدا در روز بروز زیادہ ہورہی ہے۔چنانچہ تنگ آگر گورنمنٹ نے چیف کو حکم دے دیا کہ اگر کسی مقدمہ میں کسی احمدی سے قسم لینے کی ضرورت پڑے تو اسے چیف کے سٹول کی قسم نہ دی جائے بلکہ اسے خدا تعالیٰ کی قسم دی جائے۔کیونکہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتے۔تو دیکھو وہاں احمدیت نے کایا پلٹ دی ہے۔سیرالیون میں ہمارا ایک اخبار چھپتا ہے۔اس کے متعلق ہمارے مبلغ نے لکھا کہ چونکہ ہمارے پاس کوئی پر لیس نہیں تھا۔اس لئے عیسائیوں کے پریس میں وہ اخبار چھپنا شروع ہوا۔دو چار پر چوں تک تو وہ برداشت کرتے چلے گئے لیکن جب یہ سلسلہ آگے بڑھا تو پادریوں کا ایک وفد اس پریس کے مالک کے پاس گیا اور انہوں نے کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اپنے پر لیس میں ایک احمدی اخبار شائع کر رہے ہو جس نے عیسائیوں کی جڑوں پر تبر رکھا ہوا ہے۔چنانچہ اسے غیرت آئی اور اس نے کہہ دیا کہ آئندہ میں تمہارا اخبار اپنے پریس میں نہیں چھاپوں گا کیونکہ پادری برا مناتے ہیں۔چنانچہ اخبار چھپنا بند ہو گیا۔تو عیسائیوں کو اس سے بڑی خوشی ہوئی اور انہوں نے ہمیں جواب دینے کے علاوہ اپنے اخبار میں بھی ایک نوٹ لکھا کہ ہم نے تو احمدیوں کا اخبار چھاپنا بند کر دیا ہے اب ہم دیکھیں گے کہ اسلام کا خدا ان کے لئے کیا سامان پیدا کرتا ہے۔یعنی پہلے ان کا اخبار ہمارے پر لیس سے چھپ جایا کرتا تھا۔اب چونکہ ہم نے انکار کر دیا ہے اور ان کے پاس اپنا کوئی پر لیں نہیں۔اس لئے اب ہم دیکھیں گے کہ یہ جو مسیح کے مقابلہ میں اپنا خدا پیش کیا کرتے ہیں اس کی کیا طاقت ہے اگر اس میں کوئی قدرت ہے تو وہ ان کے لئے خود سامان پیدا کرے۔وہ مبلغ لکھتے ہیں کہ جب میں نے یہ پڑھا تو میرے دل کو سخت تکلیف محسوس ہوئی۔میں نے اپنی جماعت کو تحریک کی کہ وہ چندہ کر کے اتنی رقم جمع کر دیں کہ ہم