سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 145
۱۴۵ ہمارے پاس پونے چار کروڑ روپیہ ہو جائے تو شائد ہم دو سال میں عیسائیت کی دھجیاں بکھیر دیں۔اس تھوڑے سے چندہ سے بھی ہم وہ کام کرتے ہیں کہ دنیا دنگ رہ گئی ہے۔چنانچہ عیسائیوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے جن کے اقتباسات الفضل میں بھی چھپتے رہتے ہیں کہ احمدیوں نے ہمارا ناطقہ بند کر دیا ہے۔جہاں بھی ہم جاتے ہیں، احمدیت کی تعلیم کی وجہ سے لوگ ہماری طرف توجہ نہیں کرتے اور نہ صرف نئے لوگ عیسائیت میں داخل نہیں ہوتے بلکہ ہم سے نکل نکل کر لوگ مسلمان ہو رہے ہیں۔نائجر یا اور گولڈ کوسٹ کے متعلق تو یہ رپورٹ آئی ہے کہ وہاں جو لوگ احمدی ہوئے ہیں، ان میں سے زیادہ تر تعداد عیسائیوں سے آئی ہے۔سیرالیون اور لائبریا سے بھی رپورٹ آئی ہے کہ عیسائی لوگ کثرت سے احمدیت کی طرف متوجہ ہورہے ہیں اور سلسلہ میں داخل ہورہے ہیں۔پاکستان اور ہندوستان میں لوگ زیادہ تر مسلمانوں سے آئے ہیں کیونکہ یہاں مسلمان زیادہ ہیں اور عیسائی کم ہیں لیکن وہاں چونکہ عیسائی زیادہ ہیں اور اس لئے زیادہ احمدی عیسائیوں سے ہی ہوئے ہیں۔چنانچہ مغربی افریقہ میں احمدیت کی ترقی کے متعلق گولڈ کوسٹ یو نیورسٹی کالج کے پروفیسر ہے ہی۔ولیم سن نے اپنی ایک کتاب مسیح یا محمد “ میں لکھا ہے کہ اشانٹی گولڈ کوسٹ کے جنوبی حصوں میں عیسائیت آج کل ترقی کر رہی ہے لیکن جنوب کے بعض حصوں میں خصوصاً ساحل کے ساتھ ساتھ احمد یہ جماعت کو عظیم فتوحات حاصل ہو رہی ہیں۔یہ خوشکن تو قع کہ گولڈ کوسٹ جلد ہی عیسائی بن جائے گا، اب معرض خطر میں ہے اور یہ خطرہ ہمارے خیال کی وسعتوں سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔کیونکہ تعلیم یافتہ نو جوانوں کی خاصی تعداد احمدیت کی طرف کھینچی چلی جارہی ہے اور یقیناً ( یہ صورت ) عیسائیت کے لئے ایک کھلا چیلنج ہے۔“ پھر جو لوگ احمدیت میں داخل ہوئے ہیں ان کے اخلاص کی یہ حالت ہے کہ سیرالیون کے مشن نے لکھا کہ یہاں ایک عیسائی سردار تھا۔جس کو یہاں چیف کے نام سے پکارا جاتا ہے۔درحقیقت ان کی حیثیت ہمارے ملک کے ذیلداروں کی سی ہوتی ہے۔مگر وہاں کی گورنمنٹ نے ان چیفس کو بہت زیادہ اختیارات دے رکھے ہیں۔ان کے پاس مقدمات جاتے ہیں اور گورنمنٹ نے ایک خاص حد تک ان کو سزا دینے کا بھی اختیار دیا ہوا ہے۔وہاں ملک کے رواج کے مطابق چیف کو خدا تعالیٰ کا قائم مقام سمجھا جاتا ہے۔اس لئے ان کے ہاں ہماری طرح خدا تعالیٰ کی قسم کھانے کا رواج نہیں بلکہ وہاں یہ رواج ہے کہ جب