سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 130
صدرانجمن احمد یہ کوملا کر پچھلے سال پچاس لاکھ کے قریب تھا، اور ہمیں امید ہے کہ یہ چندہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھتا چلا جائے گا۔تھوڑے عرصہ میں ہی تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ چندہ ۶۵ لاکھ روپیہ ہو جائے گا۔میں تو اپنے ذہن میں یہ سوچا کرتا ہوں کہ اگر ہماری جماعت کا سالانہ چندہ تین کروڑ ہو جائے تو ہم پاکستان کے گوشہ گوشہ میں اپنے مبلغ پھیلا سکتے ہیں۔کیونکہ ۳ کروڑ سے ۲۵ لاکھ روپیہ ماہوار بنتا ہے اور ۲۵ لاکھ ماہوار روپیہ کے معنی یہ ہیں کہ اگر ہر مبلغ کی ماہوار تنخواہ ایک سور و پیہ بھی ہو تو ہم ۲۵ ہزار مبلغ رکھ سکتے ہیں اور ۲۵ ہزار مبلغ پاکستان کے گوشہ گوشہ میں پھیلایا جا سکتا ہے۔غرض آج میں تحریک جدید کے نئے سال کے لئے جماعت سے مالی قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہوں۔اب الفضل اور تحریک جد یک کے کارکنوں کا فرض ہے کہ وہ اس اعلان کو بار بار پھیلائیں اور اس کی اشاعت کریں۔ہر دوست کو چاہئے کہ وہ کوشش کرے کہ پچھلے سال اس نے جو کچھ چندہ دیا تھا، اس سال اس سے کچھ نہ کچھ بڑھا کر دے۔پچھلے سالوں میں چونکہ چندے تھوڑے تھے۔میں نے زیادہ بختی کی تھی اور کہا تھا کہ ہر شخص اپنے گذشتہ سالوں کے چندہ سے ڈیوڑھا دے۔مگر اب میں اس قید کو ہٹاتا ہوں کیونکہ لوگوں نے خود اپنی مرضی سے چندوں کو زیادہ کر دیا ہے۔اب میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی شخص اپنے پچھلے سال کے چندہ سے کم نہ دے اور اگر زیادہ دے سکے مثلاً دس فیصدی زیادہ دے سکے یا پندرہ فیصدی زیادہ دے سکے یا بیس فیصدی زیادہ دے سکے تو یہ اس کی مرضی ہے اور اس کا یہ فعل اسے مزید ثواب کا مستحق بنا دے گا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان نوافل کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے۔کیونکہ نفل انسان اپنی مرضی سے ادا کرتا ہے اور فرض حکم کے ماتحت ادا کرتا ہے۔ابھی ہماری شورٹی کے آنے میں، جب نئے سال کا بجٹ تیار ہوتا ہے، پانچ ماہ باقی ہیں۔پانچ ماہ تک یہ چندہ جمع کرتے چلے جائیں اور اس کی تحریک دوستوں کو بار بار کریں۔تا کہ پانچ ماہ کے بعد اس سال کا چندہ پچھلے سال کے چندہ سے بھی زیادہ ہو جائے اور ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے سارے یورپ میں مساجد بنا سکیں اور افریقہ اور انڈو نیشیا وغیرہ میں بھی اپنے مبلغ بڑھا سکیں۔یہی ذریعہ ہماری کامیابی کا ہے۔اس وقت غیر فرقوں پر اگر ہمیں کوئی فضیلت حاصل ہے تو یہی ہے کہ ہمارے مبلغ غیر ملکوں میں پائے جاتے ہیں اور ان کے نہیں پائے جاتے۔اس کا اتنا اثر ہے کہ پرسوں مجھے کو یت سے ایک جرمن کا خط ملا۔اس نے لکھا ہے کہ میں دیر سے اسلام کی طرف مائل ہوں لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں اسلام کی تعلیم کہاں سے حاصل کروں۔یہاں ایک موسیٰ نامی شخص ہیں۔(موسیٰ کوئی غیر احمدی ہیں غالباً بمبئی کی طرف کے ہیں کیونکہ اس علاقہ میں ایسے نام رکھے جاتے