سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 113
میرے گھر بھی تشریف لائیں اور میری دعوت کو قبول فرمائیں۔میں نے کہا تم بہت غریب ہو میں نہیں چاہتا کہ دعوت کی وجہ سے تم پر کوئی بوجھ پڑے۔اُس نے کہا میں غریب ہوں تو کیا ہوا آپ میری دعوت ضرور قبول کریں۔میں نے پھر بھی انکار کیا۔مگر وہ میرے پیچھے پڑ گیا۔چنانچہ ایک دن میں اُس کے گھر گیا تا کہ اُس کی دلجوئی ہو جائے۔مجھے یاد نہیں اُس نے چائے کی دعوت کی تھی یا کھانا کھلایا تھا۔مگر جب میں اُس کے گھر سے نکلا تو گلی میں ایک احمدی دوست عبد العزیز صاحب کھڑے تھے۔وہ پسر در ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے اور مخلص احمدی تھے لیکن اُنہیں اعتراض کرنے کی عادت تھی۔میں نے انہیں دیکھا تو میرا دل بیٹھ گیا اور میں نے خیال کیا کہ اب یہ دوست مجھ پر ضرور اعتراض کریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا۔حضور آپ ایسے غریبوں کی دعوت بھی قبول کر لیتے ہیں۔میں نے کہا عبدالعزیز صاحب میرے لئے دونوں طرح مصیبت ہے۔اگر میں انکار کروں تو غریب کہتا ہے میں غریب ہوں اس لئے میری دعوت نہیں کھاتے اور اگر میں اس کی دعوت منظور کر لوں تو آپ لوگ کہتے ہیں غریب کی دعوت کیوں مان لی۔اب دیکھو اس شخص نے خود مجھے دعوت پر بلایا تھا۔میں نے بارہا انکار کیا لیکن وہ میرے پیچھے اس طرح پڑا کہ میں مجبور ہو گیا کہ اُس کی دعوت مان لوں لیکن دوسرے دوست کو اس پر اعتراض پیدا ہوا۔غرض جماعت میں ایسے ایسے غریب بھی ہیں کہ ان کے ہاں کھانا کھانے پر بھی دوسروں کو اعتراض پیدا ہو جاتا ہے۔ایسی غریب جماعت نے ان لڑکوں کی خدمت کرنے اور انہیں پڑھانے پر ایک لاکھ روپیہ سے زیادہ خرچ کیا۔میاں عبدالسلام کو وکیل بنایا۔عبدالمنان کو ایم۔اے کر وایا مگر اسے خود تعلیم کا شوق نہیں تھا۔اس لئے وہ زیادہ تعلیم حاصل نہ کر سکا لیکن پھر بھی جماعت نے اسے پڑھانے میں کوتا ہی نہ کی۔بعد میں میں نے معقول گزارہ دے کر اسے دہلی بھجوایا اور کہا کہ تمہارے باپ کا پیشہ طب تھا۔تم بھی طب پڑھ لو۔چنانچہ اسے حکیم اجمل خاں صاحب کے کالج میں طب پڑھائی گئی۔گو اُس نے وہاں بھی وہی حرکت کی کہ پڑہائی کی طرف توجہ نہ کی اور فیل ہوا لیکن اُس نے اتنی عقلمندی کی کہ اپنی بیوی کو بھی ساتھ لے گیا۔چنانچہ بیوی پاس ہو گئی اور امتحان میں اول آئی۔اب سلسلہ کے لئے روپیہ کی وجہ سے جو اس پر خرچ کیا گیا وہ اپنا گزارہ کر رہا ہے اور اُس نے اپنے دواخانہ کا نام دواخانہ نور الدین رکھا ہوا ہے۔حالانکہ در اصل وہ دواخانہ سلسلہ احمدیہ ہے کیونکہ سلسلہ احمدیہ کے روپیہ سے ہی وہ اس حد تک پہنچا ہے کہ دواخانہ کو جاری رکھ سکے۔اب وہ لکھتا ہے کہ میری بیوی جو گولڈ میڈلسٹ ہے وہ علاج کرتی ہے۔وہ یہ کیوں نہیں لکھتا کہ میری بیوی جس کو سلسلہ احمدیہ نے خرچ دے کر پڑھایا ہے علاج کرتی ہے۔غرض چاہے