سوانح حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ — Page 20
32 31 مسلمانوں کے خلاف بھڑ کا ئیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے انہیں سزا دینے کے لئے خیبر سے پرے دھکیل دینے کا فیصلہ کیا اور سولہ سو صحابہ کے ساتھ محرم سنہ 7ھ میں خیبر کا محاصرہ کیا۔جہاں یہودیوں کے تین مرکزی قلعے تھے اور ہر ایک قلعے کے آگے متعدد ذیلی قلعے تھے۔کئی دن محاصرہ جاری رہا۔ایک صبح آپ ﷺ نے حضرت علی کو اسلامی پر چم دے کر بھجوایا اور ان کے ہاتھ پر خیبر فتح ہوا۔اور اس شرط پر صلح ہوئی کہ یہود خیبر کے پورے علاقے کو چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں گے اور یہ علاقہ خالی کر دیں گے اور انہیں ساتھ کچھ بھی لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور ان کے تمام اموال مسلمانوں کے حق میں ضبط ہوں گے۔میں بھی خیبر کی جنگ میں بہادری سے لڑا۔آنحضرت ﷺ نے مجھے خیبر میں فتح کی ہوئی ایک جاگیر بھی عطافرمائی۔ย فتح مکہ سنہ 8 ھ میں حضرت اقدس محمد علی کے ہاتھوں مکہ فتح ہوا۔حضور ع نے دس ہزار صحابہ کے ساتھ قریش مکہ کی صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کرنے کے نتیجہ میں مکہ پر لشکر کشی کی اور بغیر جنگ کئے مکہ والوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔جس روز مکہ فتح ہوا آنحضرت ﷺ نے مہاجرین کے ایک دستے کا مجھے علم بردار بنایا۔حضور ﷺ کے آگے جب قریش مکہ پیش ہوئے تو ان کی ٹانگیں کانپ الله صلى الله رہی تھیں اور دل دھڑک رہے تھے ان کے مظالم جو انہوں نے حضور علی او صحابہ پر کئے تھے ان کی آنکھوں کے سامنے تھے اور انہیں اپنی موت نظر آ رہی تھی لیکن حضور ﷺ نے جو کہ تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے ان سب کو معاف کر دیا عام معافی کے اعلان پر مکہ والوں نے از خود اسلام قبول کر لیا۔