حضرت رقیہ ؓ — Page 11
حضرت رقیہ بنت حضرت محمد صل الله 11 جا رہی تھی حضرت زید بن حارثہ بدر سے فتح کی خبر لے کر مدینہ پہنچے۔صلى الله حضرت رقیه آنحضور ﷺ کی صاحبزادیوں میں سے سے پہلی تھیں جنہوں نے حضور ﷺ کی زندگی میں وفات پائی۔آپ نے اپنی لخت جگر کی وفات کی اطلاع پا کر بے حد غمگین ہوئے اور آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔مدینہ واپس تشریف لا کر حضرت رقیہ کی قبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا :- 66 عثمان بن مظعون جاچکے اب تم بھی ان سے جاملو۔“ مہاجرین میں حضرت عثمان بن مظعون پہلے صحابی تھے جنہوں نے مدینہ میں انتقال کیا۔اس المناک موت کا غم نہ صرف پیارے رسول ملے کو تھا بلکہ آپ ﷺ کی صاحبزادیاں بھی اپنی بہن کی جدائی پغمگین تھیں۔چنانچہ حضرت فاطمہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ جب اپنی بہن کی قبر پر تشریف لائیں تو قبر کے کنارے پر بیٹھ کر رونے لگیں۔حضور اقدس میلے اپنی چادر مبارک سے آپ کے آنسو پو نچھتے جاتے تھے۔حضرت عثمان بھی بیوی کی جدائی میں بے حد غمگین تھے۔حضرت رقیہؓ اور حضرت عثمان آپس میں بے حد محبت کرتے تھے۔لوگ ان کے مثالی تعلقات کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ان سے بہتر میاں بیوی کسی انسان نے نہیں دیکھے۔(19)