الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 630 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 630

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ختم نبوت یہ عقیدہ کہ آنحضرت ﷺ بطور آخری نبی مبعوث ہو کر گزر بھی گئے اور ساتھ ہی یہ دعویٰ کہ آپ ﷺ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی اللہ نازل ہوں گے، متضاد عقائد ہیں جو ایک ہی وقت میں درست تسلیم نہیں کئے جا سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ ان دو متغائر امور کا ملغوبہ قرونِ وسطیٰ کے بعض علماء کی اختراع ہے ورنہ نزول قرآن کے وقت تو ان دونوں کا باہمی تعلق کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ایک نا واقف غیر مسلم قاری کی خاطر ہم اس مسئلہ کا تاریخی پس منظر بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں مبادا وہ سمجھ ہی نہ سکے کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟ آیت خاتم النبیین قرآن کریم کی بنیادی آیات میں سے ہے جو اپنے اندر بہت گہرے معانی رکھتی ہے اور جس کی کئی پہلوؤں سے تفسیر کی جاسکتی ہے لیکن اس آیت کے کسی ایک مفہوم میں بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا کوئی ذکر موجود نہیں۔چنانچہ ملاؤں کا یہ موقف کہ حضرت عیسی علیہ السلام چوتھے آسمان پر اس وجہ سے اٹھائے گئے تھے کہ آیت خاتم النبیین کا نزول ابھی مقدر تھا، حد درجہ مضحکہ خیز اور ڈرامائی ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کے بجسد عصری آسمان پر چڑھ جانے کا نہ تو آیت خاتم النبيين سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی کسی اور آیت سے۔کیا حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اٹھانے کا خدا تعالیٰ کو خیال تک نہ گزرا۔سارا قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی احادیث خدا کی مقدس ذات کو اس لغو فعل سے مبرا قرار دیتی ہیں کیونکہ ان میں حضرت عیسی علیہ السلام کے زندہ آسمان پر جانے کا ذکر تک نہیں ملتا۔اس لئے علماء کا یہ اصرار کہ خدا نے حضرت عیسی علیہ السلام کو اس لئے آسمان پر اٹھالیا تھا تا کہ قرآن کریم کی آیت خاتم النبیین کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی مشکل کا پیشگی حل تلاش کیا جائے ایک سفید جھوٹ اور قرآن کریم پر ایک بے بنیادالزام ہے۔چنانچہ یہ ملاں ہی ہے جس نے از خود یہ مسئلہ کھڑا کیا اور پھر خود ہی اسے خدا کے نام پر حل کرنے کی کوشش کی۔ملاؤں کے 599