الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 606
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 575 غیر حقیقی اور مافوق الفطرت امیدوں پر بھی چسپاں ہوتی ہے۔حیرت ہے کہ اوروں کے اعتقادات میں بظاہر نا معقولیت کا شائبہ بھی ان کی صحیح و غلط میں تمیز کی حس کو مجروح کر دیتا ہے لیکن انہیں اپنے اعتقادات کی نا معقولیت خواہ کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو، ہرگز نظر نہیں آتی۔اگر وہ خود کو دوسروں کی نگاہوں سے دیکھ سکتے تو انہیں اپنی آنکھوں کا بھینگا پن ضرور نظر آجاتا۔اگر یہ لوگ عقل سے کام لیتے تو انہیں صاف نظر آجاتا کہ کسی نبی یا دیوتا کا ایک بار زمین پر آکر ظاہری معنوں میں جسمانی طور پر دوبارہ آنا عقل اور منطق کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔تاریخ عالم میں کبھی بھی، کہیں بھی نہ تو ایسا ہوا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ہونا ممکن ہے۔کسی بھی مذہب کے بانی کو کبھی بھی جسمانی طور پر آسمان سے اترتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔بلکہ ہمیشہ اس کا ظہور معمول کے مطابق معروف انسانی پیدائش کے طور پر ہی ہوا اور بلا استثنا ہر مذہب کے بانی نے جب بھی اپنے عقیدہ کو پیش فرمایا مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے اپنے پیغام کی اشاعت اور بقا کیلئے سخت جدوجہد کرنا پڑی۔یہی ایک حقیقت مثبتہ ہے۔ہر وہ عقیدہ جو اس حقیقت کے منافی ہوگا اس کی حیثیت محض فرضی اور تخیلاتی ہوگی۔نتیجہ احیائے دین کے تمام ایسے وعدوں کو رد کرنا پڑے گا جو سراسر عقل کے منافی ہیں اور نہ ہی مذاہب کی تاریخ میں خدا کی طرف سے کئے گئے اس قسم کے وعدوں کا کہیں ذکر ملتا ہے۔مسلمانوں کا معاملہ اس عمومی قانون سے بظاہر مختلف معلوم ہوتا ہے لیکن قریب سے دیکھنے والے کو مسلمانوں اور دوسروں کے نقطہ نظر میں صرف ترتیب ہی بدلی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔اس کے علاوہ کوئی فرق نظر نہیں آتا۔مسلمان آنحضرت ﷺ کو مطلق آخری نبی مانتے ہیں۔ختم نبوت کی اصطلاح سے جمہور مسلمان یہی مراد لیتے ہیں۔اس کے باوجود وہ بھی آپ ﷺ سے پہلے کے ایک نبی حضرت عیسی علیہ السلام کے بجسد عصری آسمان سے نازل ہونے کے منتظر ہیں۔کیا ان کی بعثت آنحضرت ﷺ کی خاتمیت کے منافی نہیں ہوگی ؟ یہی وہ سب سے اہم اور فیصلہ کن سوال ہے جس کا انہیں جواب دینا ہو گا۔ان کے نزدیک اس بدیہی تضاد کا حل یہ ہے کہ اگر چہ نبی پیدا تو نہیں ہو سکتا البتہ نئی ضروریات کے پیش نظر کوئی سابقہ نبی واپس آسکتا ہے۔اس چال سے بظاہر وہ نبوت کے دروازہ کو بند کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن چور دروازہ سے حضرت مسیح کو اندر لے آتے ہیں۔اس دور کے مسلمان خواہ سنی ہوں یا شیعہ، ختم نبوت کی اس