الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 603 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 603

572 مستقبل میں وہ و الهام اور ہر وہ قوم جو اپنے مذہب کے علاوہ دیگر تمام مذاہب کو باطل سمجھتی ہے، اپنے مذہب کے علاوہ تمام دروازے بند کر دیتی ہے۔اسی طرح اس کا اپنا دروازہ اوروں کو بھی بند دکھائی دیتا ہے۔گویا پہلے تو سب مل کر ایک عالمگیر نجات دہندہ کی آمد کے گیت گا رہے تھے مگر جونہی اس نجات دہندہ کے تشخص کا سوال اٹھا ہر ایک نے اپنا اپنا الگ راگ الاپنا شروع کر دیا۔بالفاظ دیگر اگر یہ موعودان کی خود ساختہ تعبیروں کے مطابق ہوا تو ٹھیک ہے ورنہ وہ کسی اور کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔افسوس! یہی وہ انجام ہے جو ان لوگوں نے اپنی اپنی جگہ تر اش رکھا ہے۔سوال یہ ہے کہ جب لوگ خدا تعالیٰ کی رضا کی پرواہ نہیں کرتے تو خدا تعالیٰ ان کی خواہشات کی کیوں پیروی کرے گا۔تو پھر تو یہ لوگ اپنا مزعومہ بھی اپنی نا معقول اور بے بنیاد امیدوں کے بل پر خود ہی تخلیق کرتے پھریں۔عالمی سطح پر اس مذہبی تنازعہ کا جائزہ عجیب منظر پیش کرتا ہے۔ہر قسم کے دعاوی اور ان کی تردید میں تمام دلائل پیش کر چکنے کے بعد مختلف مذاہب کے حامیان کا اتفاق رائے صرف اس امر پر ہوتا ہے کہ پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ ایک دوسرے سے مباحثہ جاری رکھا جائے۔ان میں سے ہر ایک صرف ایسے ہی مصلح کو قبول کرنے کیلئے تیار ہوتا ہے جو ان کے اپنے عقائد کا حامل اور انہی کے معیار پر پورا اترتا ہو۔ان کی باتیں بیکار، امید میں بے سود اور ان کا منجی محض ایک تصوراتی وجود ہے۔اگر ایسے منجی کا ظہور ہوا تو کیا وہ تمام مذاہب یا صرف ایک ہی مذہب کی توقعات پر پورا اترے گا؟ در حقیقت اس کا تعلق کس مذہب سے ہوگا جبکہ تمام مذاہب کے پیروکار امید کے چشمہ پر کھڑے یہ گیت گا رہے ہوں گے کہ اس منجی کو ہمارا بنا دے۔ہمارا بنا دے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آنے والا ایک ہی وجود ہوگا یا بیک وقت مختلف وجود۔خدا تعالیٰ کی ذات میں تو کوئی تضاد نہیں اس لئے یا تو وہ ایک ہی شخص کو اپنا پیغام دے کر بھیجے گا یا پھر کسی کو بھی نہیں۔اس صورت میں مختلف مذاہب کے باہم دست و گریبان فرقوں کا کیا بنے گا جن کے نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے۔اب ہم ان لوگوں کے طرز عمل میں پائے جانے والے بنیادی تضادات کا جائزہ لیتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جس رنگ میں یہ لوگ اپنی امیدوں کو پورا ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں وہ قطعی ناممکن ہے۔مثال کے طور پر یہودی مدتوں سے مسیح کی آمد کے منتظر ہیں۔وہ ہزاروں سال سے