الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 602
مستقبل میں وحی والہام حیوانات ، قدرت کی نعمتوں میں سے جو بھی میسر آ جائے اس پر گزر اوقات کر لیتے ہیں۔وہ نہ تو اپنے ماضی کی یادوں میں کھوئے رہتے ہیں اور نہ ہی آئندہ کے متعلق سنہرے خواب دیکھا کرتے ہیں۔اس کے برعکس عالم حیوانات میں انسان کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔شاذ ہی وہ کبھی اپنے حال پر قانع ہوتا ہے۔یا تو وہ ماضی کی یادوں میں کھویا رہتا ہے یا پھر اس سہارے پر زندہ رہتا ہے کہ مستقبل میں اچھے دن آنے والے ہیں۔اس کی ان امیدوں کا تعلق بالعموم اقتصادی، سیاسی یا مذہبی معاملات سے ہوتا ہے۔ذیل میں ہم خصوصیت سے اس کی مذہبی امیدوں اور ارادوں کے حوالہ سے گفتگو کریں گے۔تمام بڑے مذاہب ایک عظیم الشان روحانی وجود کے ظہور کی خبر دیتے ہیں جو بنی نوع انسان کیلئے امید کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا اور انہیں ایک آسمانی جھنڈے تلے جمع کر دے گا۔یہ وہ ارض موعودہ ہے جس تک تمام مذاہب ایک نہ ایک دن پہنچنے کی امید رکھتے ہیں اور بالآخر اپنی مرضی کے مطابق حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔یہی وہ جنت ارضی ہے جو تمام مذاہب کی مستقبل سے وابستہ توقعات کا مرکزی نقطہ ہے مگر افسوس! یہی نقطہ انتشار کا باعث بھی ہے۔یعنی خوابوں میں تو اشتراک نظر آتا ہے مگر تعبیروں میں نہیں۔اس عقیدہ پر تو سب متفق ہیں کہ نسل انسانی کے نجات دہندہ کے طور پر ایک آسمانی وجود یقیناً ظاہر ہوگا لیکن جب اس وجود کی تعیین کا سوال اٹھتا ہے تو مذاہب کا باہمی اختلاف انتہائی سنگین صورت اختیار کر جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا وہ کرشن جی مہاراج ہوں گے یا یسوع مسیح۔زرتشت ہوں گے یا گوتم بدھ یا پھر کنفیوشس یا تاؤ۔ہر مذہب ایک مختلف نام اور منصب کے حامل وجود کے ظہور کی امید لگائے بیٹھا ہے اور ہر مذہب یہی توقع رکھتا ہے کہ آنے والے کا ظہور اس سے مخصوص ہو گا۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک نجات دہندہ کے ظہور کیلئے وہ دروازے جو پہلے کھلے نظر آتے تھے اب بند ہوتے دکھائی دیتے ہیں 571