الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 595 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 595

564 ایڈز کا وائرس آجکل دن رات ٹیلیویژن، اخبارات اور رسائل میں کھلے عام اس طرح کی جارہی ہے جس کی اس سے پہلے انسانی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مزالاز ما جرم کے مطابق ہو۔اس سزا کا تعلق دراصل بے دریغ اشاعت فحشا سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی میں خاص طور پر یورپ اور دوسرے عیسائی ممالک کا ذکر ہے۔آنحضرت ﷺ کی مذکورہ بالا پیشگوئی کسی خاص ملک کے لوگوں یا مذہب کے پیروکاروں کا ذکر نہیں کرتی بلکہ محض جرم کی نوعیت تک محدود رہتے ہوئے جرم کے مطابق سزا کا ذکر کرتی ہے۔دونوں پیشگوئیوں کو ملا کر پڑھنے سے بات مکمل ہو جاتی ہے۔عیسائی ممالک میں سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حالت بعینہ اس بیان کے مطابق نظر آتی ہے۔لیکن تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق صحرائے اعظم کے جنوب میں واقع افریقی ممالک اس قسم کی جنسی آزادی میں پیش پیش ہیں جبکہ جزائر غرب الہند اس معاملہ میں ان سے ذرا سا ہی پیچھے ہیں۔مذکورہ اعداد و شمار کے مطابق افریقن عیسائی ممالک باقی تمام افریقی ممالک کی نسبت ایڈز سے زیادہ متاثر ہیں۔اب صرف طاعون کی اس خاص قسم کی تعیین باقی رہ جاتی ہے جس کا پیشگوئیوں میں ذکر ہے۔اس حوالہ سے یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ ایڈز ہی دراصل وہ سزا ہے جس کا ذکر پیشگوئیوں میں موجود ہے۔ممتاز ڈاکٹر اسے وہاہی کی ایک قسم قرار دیتے ہیں۔طاعون کی طرح ایڈز بھی تیز بخار کے ساتھ بعض غدودوں کی سوزش کا باعث بنتی ہے۔گلٹیوں والی (bubonic) طاعون کی طرح یہ بھی ایک بے رحم قاتل ہے تا ہم اس کی بعض منفر د خصوصیات ہیں جو گلٹیوں والی طاعون میں نہیں پائی جاتیں۔ایڈز کا تعلق قطعی طور پر جنسی تعلقات سے ہے جبکہ طاعون میں ایسا نہیں ہے۔دراصل یہ حد سے بڑھی ہوئی جنسی بے راہ روی کیلئے بطور سزا کے ہے۔یادر ہے کہ مذہبی پیشگوئیوں کو ہمیشہ ظاہری معنوں پر محمول نہیں کرنا چاہئے۔اس پیشگوئی میں خصوصیت سے یورپ اور دوسرے عیسائی ملکوں کا ذکر کیا گیا ہے تا کہ ہم ان علاقوں کو بآسانی شناخت کر سکیں جہاں اس نئی قسم کی طاعون کا کثرت سے پھیلنا مقدر تھا۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ محض یورپ اور دوسرے عیسائی ملکوں تک ہی محدود رہے گی۔آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی واضح طور پر اس کے وسیع تر پھیلاؤ کے امکان کی طرف اشارہ