الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 594
ایڈز کا وائرس حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے دنیا کے بعض حصوں میں ایک اور قسم کی طاعون کے ظاہر ہونے کی پیشگوئی بھی فرمائی تھی جس کے بارہ میں 1907ء میں جب ہندوستان میں طاعون کی و باختم ہو چکی تھی آپ کو ان الفاظ میں الہاماً بتایا گیا۔یورپ اور دوسرے عیسائی ممالک میں ایک قسم کی طاعون پھیلے گی جو بہت ہی سخت ہوگی۔ایک قسم کی طاعون کی اصطلاح سے کیا مراد ہے اور بالخصوص یورپ اور دوسرے عیسائی ممالک ہی کیوں اس کا نشانہ بننے والے تھے ؟ ایک حدیث میں جو ابن ماجہ کتاب الفتن میں مذکور ہے، آنحضرت ﷺ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قریباً تیرہ سو سال قبل اس کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: لَمْ تَظْهَرِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ قَطَّ حَتَّى يُعْلِنُوا بِهَا إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الطَّاعُونُ وَالْاَوْجَاعُ الَّتِي لَمْ تَكُنْ مَضَتْ فِي أَسْلَافِهِمُ الَّذِينَ مَضَوا۔ترجمہ : کسی قوم میں کبھی اس قدر بد کاری نہیں پھیلی کہ وہ لوگ اسے اعلامیہ کرنے لگے مگر اس کے نتیجہ میں ان میں طاعون اور دیگر امراض پھیل گئے جو ان کے اسلاف میں نہیں تھے۔لفظ فاحشہ سے مراد ایسی جنسی آزادی ہے جو اشاعت فحشاء پر مشتمل ہو اور جس میں انتہائی بے حیائی اور دیدہ دلیری کے ساتھ جنسی تعلقات کا کھلے بندوں اظہار کیا جائے۔یہاں یہ امر مد نظر رہے کہ محض جنسی آزادی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ شدید عذاب نازل نہیں فرما تا بلکہ جب بے حیائی تمام حدود سے تجاوز کر جائے اور اس کو عمومی طور پر مقبول سماجی رویہ کی حیثیت حاصل ہو جائے تو پھر ایسا معاشرہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کے باعث بعض نئی جنسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں خصوصیت سے عصر حاضر کی گناہ آلود حالت کی طرف اشارہ موجود ہے۔جس قسم کی بے حیائی اور فحاشی کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے اس کی اشاعت 563